راولپنڈی؛ 13 سالہ گھریلو ملازمہ سے زیادتی، حاملہ ہونے پر مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
گھر کے مالک کی 13 سالہ ملازمہ کے ساتھ زیادتی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے حاملہ ہونے پر مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق تھانہ صادق آباد کے علاقے میں گھر کے مالک کی جانب سے 13 سالہ گھریلو ملازمہ سے زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں بچی کے حاملہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔
مقدمے کی مدعیہ مسماۃ غلام فاطمہ نے بیان دیا ہے کہ وہ فیصل آباد کی رہائشی ہیں اور 13 سالہ عزیزہ بچی والد کے انتقال اور اپنی والدہ کی دوسری شادی کے باعث گزشتہ 7 سال سے ان کے پاس ہی تھی۔ مدعیہ کے مطابق انہوں نے بچی کو بہتر تعلیم و تربیت کے لیے مسماۃ سنیلا عدیل کے پاس چھوڑا تھا۔
متنِ مقدمہ کے مطابق سنیلا عدیل وغیرہ سے یہ طے پایا تھا کہ وہ بچی کو بہتر تعلیم و تربیت فراہم کریں گے اور 6 ہزار روپے ماہانہ ادا کریں گے۔ مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ بچی گزشتہ 5 سال سے انہی کے پاس تھی اور اس دوران کبھی کبھار فون پر بھی بات ہوتی رہتی تھی۔
مدعیہ کے مطابق کچھ عرصہ انہوں نے بچی سے بات نہ کرائی، جس پر 15 دسمبر کو مدعیہ بچی سے ملنے اور اسے لینے کے لیے آئیں تو ابتدا میں ملنے نہ دیا گیا، بعدازاں بچی کو ان کے حوالے کردیا گیا جسے لے کر وہ گاؤں چلی گئیں۔
گاؤں جاکر معلوم ہوا کہ بچی حاملہ ہے۔ ٹیسٹ کروانے اور پوچھنے پر بچی نے بتایا کہ عدیل اسے نیند کی گولیاں دے کر زبردستی کرتا رہا اور ایک ماہ قبل بھی اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متنِ مقدمہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شافع اور عدیل بچی کو مارتے پیٹتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں۔
پولیس کے مطابق مقدمہ درج کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور