سرکاری محکموں میں پیٹرول اورڈیزل گاڑیوں کی خریداری پرپابندی لگانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پنجاب حکومت نے سرکاری محکموں میں پیٹرول اورڈیزل گاڑیوں کی خریداری پرپابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔پنجاب حکومت نے صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے اقدام کرتے ہوئے سرکاری محکموں میں پیٹرول اورڈیزل گاڑیوں کی خریداری پرپابندی لگانےکا فیصلہ کیا ہے۔چیف سیکرٹری پنجاب کے مطابق آئندہ صرف الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیاں خریدی جا سکیں گی، فیلڈ ڈیوٹی کی گاڑیوں کو استثنیٰ ہوگا۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ نئے پیٹرول پمپس کی این او سی اب الیکٹرک چارجنگ یونٹ سے مشروط ہوگی، نئے پیٹرول پمپ کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ کے بغیرکام کی اجازت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے 'گرین انرجی' کا فروغ ترجیح ہے، صوبے میں نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی جلد متعارف کرائی جائیگی۔چیف سیکرٹری کے مطابق این او سی لینے والے نئے 170 پیٹرول پمپس پر الیکٹرک چارجنگ کی تنصیب کو لازمی قرار دیا گیا ہے جب کہ پنجاب کے 31 شہروں میں 170 نئے پیٹرول پمپس کیلئےای بزپورٹل پراین او سیزجاری کیےگئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔