اکبر ایس بابر کا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے فیصلے کو قانونی فورم پر چیلنج کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے اسپیکر کے متوقع فیصلے کو قانونی فورم پر چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔
اکبر ایس بابر کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کا محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نوٹیفائی کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسپیکر کے ایسے کسی بھی فیصلے کو قانونی فورم پر چیلنج کریں گے۔
اپنے بیان میں انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پی ایل ڈی 2018 (صفحہ 370) میں قرار دے چکی ہے کہ سزا یافتہ شخص سیاسی فیصلوں کا مجاز نہیں۔ قومی اسمبلی کے رولز اسپیکر قومی اسمبلی کو ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ سزا یافتہ کی ایما پر اپوزیشن لیڈر تعینات کریں۔
اکبر ایس بابر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کی خلاف ورزی توہین عدالت اور ’’مک مکا کی سیاست‘‘ کی علامت ہوگی۔ مک مکا کی سیاست نے عوام کو بدحال اور حکمرانوں کو خوشحال بنایا، مفاہمت کے نام پر مک مکا سیاست کا شاخسانہ ہے کہ ملک دشمن سیاست جاری ہے۔
مزید پڑھیںمحمود خان اچکزئی کا بیان ملک دشمن سیاست کا پردہ چاک کر چکا ہے، اکبر ایس بابر
محمود خان اچکزئی کی بلامقابلہ اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار
خطرہ ہے دو چار ماہ بعد پاکستان کے کچھ علاقے علیحدگی کا اعلان کردیں گے، محمود اچکزئی
انہوں نے مزید کہا کہ بااثر سیاست دان ملک دشمن سیاست کریں، اسے بدنام کریں، ملکی وسائل لوٹیں یا معیشت تباہ کریں، قانون کی گرفت سے بری ہیں۔ بااثر سیاست دان معاشرے میں انتشار پھیلائیں، اداروں پر حملے کریں یا دہشت گردوں کی سہولت کاری، احتساب سے بالاتر ہیں۔
اکبر ایس بابر نے کہا کہ مفاہمت کے نام پر ایسی ’’مک مکا سیاست‘‘ دفن کرنے کا وقت آگیا ہے۔ بیرونی دشمنوں کی طرح، اندرونی دشمنوں کے خلاف معرکہ حق کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کو ہے۔ اس معرکہ حق میں بیرونی دشمنوں کے اشاروں پرکام کرنے والے اندرونی دشمنوں سے فیصلہ کن مقابلہ کریں گے۔
پی ٹی آئی کے بانی رہنما کا کہنا تھا کہ سیاسی، قانونی اور میڈیا کے محاذو ں پر یہ جنگ لڑیں گے۔ اندرونی دشمنوں کے خلاف معرکہ حق میں بھی فتح پاکستان اور عوام کی ہوگی، ان شاء اللہ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی اکبر ایس بابر اپوزیشن لیڈر مک مکا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔