وفاقی آئینی عدالت کا ارشد شریف قتل کیس جلد نمٹانے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت کا ارشد شریف قتل کیس جلد نمٹانے کا عندیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) وفاقی آئینی عدالت نے نامور پاکستانی صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کے قتل کیس کو جلد نمٹانے کا عندیہ دے دیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ تفتیش کا عمل کافی سست رہا ہے، عدالت کسی پر الزام لگانا نہیں چاہتی اور کیس میں شفافیت کیلئے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران ارشد شریف کے وکیل نے بتایا کہ سوموٹو کی بنیاد پر کمیشن بنایا گیا اور تفتیش ابھی تک جاری ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے استفسار کیا کہ کینیا میں اب تک کیا اقدامات کئے جا چکے ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وہاں کیس کیا گیا اور فیصلے ہمارے حق میں آئے، عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ واقعے کو ایک حادثہ سے قتل کے زمرے میں شامل کیا جائے، تاہم حکومت اور ان کے اپروچ میں فرق موجود ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی جا چکی ہے اور ابتدائی طور پر کینیا حکومت نے تفتیش میں مدد دینے سے انکار کیا تھا، مگر گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان میمورنڈم آف ایگریمنٹ ہوا جس کے بعد مزید تفتیش کیلئے اب کینیا حکومت کی اجازت پر ٹیم جائے وقوعہ بھیجے گی۔
ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ جائے وقوعہ پر جا کر کینیائی حکومت شواہد فراہم کرے گی۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے عمران فاروق قتل کیس کا بھی تذکرہ کیا اور بتایا کہ انگلینڈ میں بھی تفتیش پاکستان اور برطانیہ کی پولیس کے تعاون سے ہوئی تھی۔
ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ عمران فاروق اور ارشد شریف کے قتل کی نوعیت مختلف ہے، جبکہ ارشد شریف قتل کیس میں چالان جمع کروا دیا گیا ہے اور دو ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، دونوں ملزمان اس وقت کینیا میں موجود ہیں اور انہیں انٹرپول کے ذریعے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا اور پوری کوشش ہے کہ تفتیش جلد سے جلد مکمل کی جائے تاکہ عدالت کارروائی آگے بڑھا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم کو بری کر دیا لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم کو بری کر دیا ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم جنگ بندی کے باوجود تین ماہ کے دوران غزہ میں 100 سے زائد بچے شہید ہوگئے، اقوام متحدہ کا خوفناک انکشاف پاکستان کی آبادی کے تناسب سے حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لیے سعودی حکومت سے رابطے جاری، لاہور کو بھی روٹ... قائم مقام صدر سے اطالوی سفیر کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال اسلام آباد: جناح گارڈن میں واپڈا اور رہائشیوں کے درمیان کشیدگی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔