data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حکومتی سطح پر جاری تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ غیر منظم سرحدی نقل و حرکت محدود کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران کیے گئے اس فیصلے نے پولیو کے خلاف قومی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سرحدی آمدورفت اور اشیا کی نقل و حمل کو ضابطے میں لانے سے نہ صرف نگرانی کا نظام بہتر ہوا بلکہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو بھی مؤثر طریقے سے محدود کیا گیا۔ سرحدی علاقوں میں ویکسی نیشن ٹیموں کی رسائی بہتر ہونے سے بچوں کو بروقت حفاظتی قطرے پلانے میں بھی نمایاں بہتری آئی۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران پولیو کیسز میں 59.

5 فیصد واضح کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ وائرس کی ترسیل چند مخصوص جغرافیائی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں پولیو کی مسلسل موجودگی اور دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل و حرکت پاکستان کے لیے ایک مستقل چیلنج رہی ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی، بارڈر مینجمنٹ میں بہتری اور موبائل آبادیوں کی رجسٹریشن نے وائرس کی دوبارہ درآمد کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فالو اپ نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی نئے کیس کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکے۔

رپورٹ میں اس پیش رفت کو پاکستان کی پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر سرحدی نظم و ضبط، ویکسی نیشن کوریج اور عوامی آگاہی کے یہ اقدامات اسی تسلسل سے جاری رہے تو پاکستان پولیو فری ملک بننے کے ہدف کے مزید قریب پہنچ سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گیا ہے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے