پاکستانی بغیر ویزا کن ممالک کا سفر کرسکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری کئی ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق سنگاپور کا پاسپورٹ ایک بار پھر دنیا کا سب سے طاقتور ترین قرار پایا ہے۔ سنگاپور کے شہری اب 192 ممالک میں بغیر ویزا کے سفر کر سکتے ہیں۔
جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں، جہاں دونوں کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 188 ممالک تک ویزا فری یا ویزا آن ایریول کی سہولت حاصل ہے۔ اس طرح ایشیا کی عالمی سفری آزادی میں برتری برقرار ہے۔
سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد
تیسرے نمبر پر ڈنمارک، لکسمبرگ، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ مشترکہ طور پر شامل ہیں، جن کے پاسپورٹس 186 ممالک تک بغیر ویزا رسائی فراہم کرتے ہیں۔
چوتھے نمبر پر یورپ کے 10 ممالک یعنی آسٹریا، بیلجیم، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز اور ناروے ہیں، جن کے پاسپورٹس 185 ممالک تک ویزا فری سفر کی اجازت دیتے ہیں۔
پاکستان کی رینکنگ میں پانچ درجے بہتری آئی ہے پھر بھی پاسپورٹ ایک مرتبہ پھر دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شمار ہوا ہے اور اسے 98ویں نمبر پر رکھا گیا ہے (نیچے سے چند درجے اوپر)۔ پاکستانی شہری اب صرف 31 ممالک میں بغیر ویزا کے جا سکتے ہیں۔
ایلون مسک نے ایران میں مفت اسٹار لنک انٹرنیٹ فراہم کر دیا
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری کئی ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں، جن میں مالدیپ، کینیا، نیپال، قطر، روانڈا، سری لنکا، سیشلز، اور کمبوڈیا جیسے ممالک شامل ہیں، جبکہ دیگر میں بارباڈوس، ہیٹی، اور مائیکرونیشیا جیسے جزائری ممالک شامل ہیں، جن کی ویزا پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں اور سفر سے پہلے تصدیق ضروری ہے.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹاپ درجے کے بیشتر پاسپورٹس یورپی ممالک کے ہیں، البتہ چند اہم غیر یورپی ممالک بھی نمایاں ہیں جیسے متحدہ عرب امارات، پانچویں، نیوزی لینڈ چھٹے، آسٹریلیا ساتویں، کینیڈا آٹھویں اور ملائیشیا نویں نمبر پر شامل ہیں۔
زرعی شعبے میں نیا انقلاب، پنجاب میں موبائل ایگریکلچر لیب متعارف
یہ رینکنگ عالمی سفری آزادی میں بڑھتی ہوئی خلیج کو بھی ظاہر کرتی ہے، جہاں ٹاپ پاسپورٹس والے لوگوں کی آزادی بڑھ رہی ہے جبکہ نچلے درجے والے ممالک مزید محدود ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔