مذہبی جماعتوں کی ’ون پلیٹ فارم‘ پالیسی برقرار رہے گی، مشاورت جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلامی آندولن بنگلہ دیش نے مذہبی جماعتوں کے لیے متحدہ ’ون پلیٹ فارم‘ پالیسی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پالیسی کے خدوخال کو حتمی شکل دینے کے لیے اندرونی مشاورت کا عمل جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات 12 فروری کو ہی ہوں گے، شیڈول میں تبدیلی نہیں، چیف ایڈوائزر محمد یونس
بدھ کی سہ پہر ہنگامی پارٹی اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں پارٹی کے جوائنٹ سیکریٹری جنرل اور ترجمان مولانا غازی عطا الرحمان نے کہا کہ جولائی کی تحریک کے بعد ملک، قوم اور اسلام کے مفاد میں مفتی سید محمد رضاؤل کریم المعروف پیر صاحب چرمونائی نے ون پلیٹ فارم پالیسی کا اعلان کیا تھا اور اسلامی اندولن بنگلہ دیش اسی پالیسی پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری باہمی مشاورت جاری ہے اور بہت جلد ون پلیٹ فارم پالیسی کی شکل اور نوعیت واضح کر دی جائے گی۔
مولانا غازی عطا الرحمان نے مزید کہا کہ اسلامی جماعتوں کے ون پلیٹ فارم کے حوالے سے سیاسی حلقوں، صحافیوں اور محب وطن شہریوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی ملک اور اسلام دونوں کے لیے خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی توقعات پوری ہوں گی۔
مزید پڑھیے: کنزیومرز ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش کا بھارت کے اڈانی گروپ کے ساتھ بجلی خریداری کے معاہدے کی منسوخی کا مطالبہ
مذکورہ اجلاس پارٹی کے امیر مفتی سید محمد رضا الکریم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سینیئر نائب امیر مفتی سید محمد فیض الاسلام کریم، پریزیڈیم ممبر مولانا مصدق بلال المدنی، سیکریٹری جنرل یونس احمد، جوائنٹ سیکریٹری جنرل مولانا غازی عطا الرحمان، انجینئر اشرف الاسلام، پرنسپل شیخ فضل باری مسعود، اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل کے ایم عتیق الرحمٰن، مولانا احمد عبد القیوم سمیت پارٹی کے دیگر مرکزی رہنما شریک ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلامی آندولن بنگلہ دیش بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی مذہبی جماعتوں کا اتحاد ون پلیٹ فارم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلامی ا ندولن بنگلہ دیش بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی مذہبی جماعتوں کا اتحاد ون پلیٹ فارم سیکریٹری جنرل ون پلیٹ فارم بنگلہ دیش کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز