Nawaiwaqt:
2026-07-23@23:53:46 GMT

وفاقی آئینی عدالت کا ارشد شریف قتل کیس جلد نمٹانے کا عندیہ

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

وفاقی آئینی عدالت کا ارشد شریف قتل کیس جلد نمٹانے کا عندیہ

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ تفتیش کا عمل کافی سست رہا ہے.عدالت کسی پر الزام لگانا نہیں چاہتی اور کیس میں شفافیت کیلئے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔سماعت کے دوران ارشد شریف کے وکیل نے بتایا کہ سوموٹو کی بنیاد پر کمیشن بنایا گیا اور تفتیش ابھی تک جاری ہے۔جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے استفسار کیا کہ کینیا میں اب تک کیا اقدامات کئے جا چکے ہیں.

جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وہاں کیس کیا گیا اور فیصلے ہمارے حق میں آئے، عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ واقعے کو ایک حادثہ سے قتل کے زمرے میں شامل کیا جائے. تاہم حکومت اور ان کے اپروچ میں فرق موجود ہے۔ایڈیشنل اٹارنی نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی جا چکی ہے اور ابتدائی طور پر کینیا حکومت نے تفتیش میں مدد دینے سے انکار کیا تھا. مگر گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان میمورنڈم آف ایگریمنٹ ہوا جس کے بعد مزید تفتیش کیلئے اب کینیا حکومت کی اجازت پر ٹیم جائے وقوعہ بھیجے گی۔ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ جائے وقوعہ پر جا کر کینیائی حکومت شواہد فراہم کرے گی۔سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے عمران فاروق قتل کیس کا بھی تذکرہ کیا اور بتایا کہ انگلینڈ میں بھی تفتیش پاکستان اور برطانیہ کی پولیس کے تعاون سے ہوئی تھی۔ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ عمران فاروق اور ارشد شریف کے قتل کی نوعیت مختلف ہے، جبکہ ارشد شریف قتل کیس میں چالان جمع کروا دیا گیا ہے اور دو ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے. دونوں ملزمان اس وقت کینیا میں موجود ہیں اور انہیں انٹرپول کے ذریعے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا اور پوری کوشش ہے کہ تفتیش جلد سے جلد مکمل کی جائے. تاکہ عدالت کارروائی آگے بڑھا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایڈیشنل اٹارنی نے ارشد شریف بتایا کہ قتل کی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ