Jang News:
2026-06-02@22:29:20 GMT
خیرپور ٹامیوالی، لڑکی کی لاش کی مبینہ بےحرمتی کا ملزم مقابلے میں مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
بہاولپور کے علاقے خیرپور ٹامیوالی میں16 سالہ لڑکی لاش کی مبینہ بے حرمتی میں ملوث مبینہ ملزم مقابلے میں مارا گیا۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم کالا جادو کرتا تھا، جو مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق اتوار کی شام 16 سالہ لڑکی کی تدفین کی گئی تھی تاہم پیر کی صبح قبر سے لاش غائب تھی۔
پولیس حکا م کے مطابق لڑکی کی لاش کو مبینہ طور پر بےحرمتی کے بعد قریبی کھیتوں میں پھینک دیا گیا تھا۔
پولیس ترجمان کے مطابق لڑکی کے اہل خانہ سمیت علاقہ مکینوں سے بھی تفتیش جبکہ لڑکی کی موت کرنٹ لگنے سے ہوئی یا اسے قتل کیا گیا اس کی بھی تحقیقات کی جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق لڑکی کی فارنزک رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔