سرکاری محکموں میں پٹرول، ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
لاہور(نیوزڈیسک) پنجاب حکومت نےماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کےلیےبڑا فیصلہ کرتے ہوئےسرکاری محکموں میں پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ سرکاری محکمے صرف الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیاں ہی خرید سکیں گے، تاہم فیلڈ ڈیوٹی پر مامور گاڑیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی،نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا اعلان جلد متوقع ہے،اس کےساتھ ساتھ نئے پٹرول پمپس کے لیے این او سی کی منظوری کو بھی الیکٹرک چارجنگ یونٹس کی تنصیب سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کےمطابق کسی بھی نئےپٹرول پمپ کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ نصب کیے بغیرکام کرنےکی اجازت نہیں دی جائےگی،این او سی حاصل کرنےوالے 170 نئےپٹرول پمپس پر الیکٹرک چارجنگ یونٹس کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے۔
صوبے کے 31 شہروں میں ای بز پورٹل کے ذریعے 170 نئے پٹرول پمپس کے لیے این او سیز جاری کی گئی ہیں۔ فیصل آباد میں 29، لاہور میں 14، بہاولپور میں 10 جبکہ خانیوال اور بہاولنگر میں 9، 9 نئے پٹرول پمپس کو الیکٹرک چارجنگ سہولت فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
اسی طرح راولپنڈی اور جھنگ میں 8، جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، قصور اور چنیوٹ میں 7، 7 نئے پٹرول پمپس کو الیکٹرک چارجنگ یونٹس لگانے کی شرط پر منظوری دی گئی ہے۔
حکومتی فیصلے کو ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور جدید ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: الیکٹرک چارجنگ نئے پٹرول پمپس
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔