امریکا ایران پر حملے کی غلطی نہ کرے، عالمی آئل مارکیٹ ہل جائیگی: سعودیہ،قطر،عمان نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وال اسٹریٹ اخبار کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک نے ایران پر امریکی حملےکی مخالفت کی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکا کو خبردار کیا ہےکہ وہ ایران پر حملہ نہ کرے ورنہ عالمی آئل مارکیٹ ہل جائےگی اور اس سے امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچےگا۔
اخبار کے مطابق بظاہر یہ عرب ممالک خاموش ہیں لیکن پس منظر میں رہ کر لابنگ کر رہے ہیں کہ امریکا ایران پر حملہ نہ کرے کیونکہ اس سے عالمی آئل مارکیٹ کو شدید دھچکہ لگے گا اور لامحالہ امریکی معیشت بھی متاثر ہوگی۔
اخبار کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو یقین دلایا ہےکہ وہ ایران کے ساتھ کسی تنازع میں نہیں پڑیں گے اور امریکا کو ایران پر حملےکے لیے اپنی فضائی حدود استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ یہ اقدام امریکی کارروائی سے خود کو دور رکھنے اور اسے روکنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق عرب ریاستوں کو خدشہ ہےکہ ایران پر حملے سے آبنائے ہرمز کے ذریعےگزرنے والے تیل کے ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے، یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر ایران کو اس کے عرب پڑوسیوں سے جدا کرتی ہے اور دنیا کی تقریباً پانچویں حصےکی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے واضح نہیں کیا کہ ایران کے خلاف کس نوعیت کی فوجی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے تاہم حکام کا کہنا ہےکہ حملے کا امکان زیادہ ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں، صدر مختلف آرا سنتے ہیں لیکن آخرکار وہی فیصلہ کرتے ہیں جو وہ بہتر سمجھتے ہیں۔
گزشتہ روز ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے انہیں حکومت کی جانب سے احتجاج دبانے کی کوششوں کی مخالفت کرنے اور ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کو کہا تھا اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ‘مدد آ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اخبار کے مطابق ایران پر
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز