آٹھ فروری کی کال عمران خان کی نہیں اپوزیشن اتحاد کی ہے، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
آٹھ فروری کی کال عمران خان کی نہیں اپوزیشن اتحاد کی ہے، علیمہ خان WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ 8 فروی کی احتجاج کی کال بانی پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ اپوزیشن اتحاد کی ہے۔علیمہ خان نے اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے کہا بانی پی ٹی آئی نے عدلیہ کی آزادی کے لیے پرامن احتجاج کا کہا تھا، آپ کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے پر ہمیں ہی جیلوں میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، بانی نے کبھی نہیں کہا میرے لیے باہر نکلو، اگر عدالتوں سے انصاف مل رہا ہوتا تو ہماری حالت یہ نہ ہوتی، اڈیالہ جیل کے باہر قرآن خوانی کو بھی جرم بنایا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو غیر قانونی طریقے سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، گزشتہ رات ہم جب گھر واپس روانہ ہوئے تو روات تھانے کے ایس او نے ہمارے لوگوں کو گرفتار کیا، پولیس نے گزشتہ رات ہمارے لوگوں کی گاڑیاں بھی قبضے میں لے لیں۔علیمہ خان نے کہا کہ ہماری تین خواتین کارکنان کو پولیس نے کل گرفتار کیا، 8 سے زائد گاڑیاں کل پولیس اٹھا کر لے گئی، 5 لاکھ روپے ہر کارکن سے تاوان مانگا جا رہا ہے، تھانہ روات کے ایس ایچ او کے خلاف کون اب درخواست دے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں نے گاڑیاں چھڑوانے کے لیے پولیس کو پیسے دیے ہیں، ہم عدلیہ کو آزاد کرنے نکلے تھے لیکن ہمیں ہی جیل میں ڈالا جا رہا ہے۔
عمران خان کی بہن نے بتایا کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی کے لیے کچھ کتابیں عدالت کو دی ہیں، عدالت کا شکریہ وہ ہماری کتابیں جیل میں پہنچاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 فروری کی کال ہمارے الائنس کی ہے عمران خان کی نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو اسٹریٹ موومنٹ کی ہدایت کی ہے۔علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے کہا کہ آج علیمہ خان کے کیس میں 6 گواہان پر جرح کرلی ہے، ایک گواہ نے سوشل میڈیا سے ویڈیوز ڈاون لوڈ کی ہیں، سوشل میڈیا سے ڈاون لوڈ ویڈیوز میں احتجاج کا کہیں ذکر نہیں ہے، ویڈیوز سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا گیا یہ کس سورس سے لی گئیں۔فیصل ملک نے بتایا کہ کوئی قابل اعتراض بات سامنے نہیں آئی، پراسیکیوشن جرح کے دوران بے جا مداخلت کرتی رہی، کوئی مواد ابھی تک سامنے نہیں آیا جس میں علیمہ خان پر الزامات ثابت ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ تمام گواہان کا تعلق پولیس سے ہے، پنجاب پولیس اس وقت حکومت پنجاب کے ماتحت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرممکنہ امریکی حملے کا خدشہ، بھارت نے اپنے تمام شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ممکنہ امریکی حملے کا خدشہ، بھارت نے اپنے تمام شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ایران میں موجود پاکستانی شہریوں اور طلبہ کیلئے وزارت خارجہ میں کوآرڈینیشن و مانیٹرنگ سیل قائم بلدیاتی انتخابات سے متعلق پنجاب حکومت کی ٹائم لائن پر عمل نہ کرنے پر نوٹس وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی میں ٹیلیفونک رابطہ ملکی سول سروس کو عالمی سطح سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں ، وزیراعظم جماعت اسلامی نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی اداروں کا صدارتی آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی علیمہ خان نے کہا کہ کی نہیں کے لیے کی کال
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔