انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بدھ کے روز 2026 مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے اضافی ٹکٹس فروخت فروخت کے لیے جاری کر دیے۔

 یہ میگا ایونٹ 7 فروری سے شروع ہوگا اور بھارت و سری لنکا میں آٹھ مختلف اسٹیڈیمز میں کھیلا جائے گا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے اس ایونٹ میں 20 ٹیمیں شرکت کریں گی اور مقابلے 8 مارچ تک جاری رہیں گے۔ آئی سی سی نے کہا ہے کہ اس بار شائقین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریکارڈ سستے ٹکٹ فراہم کیے گئے ہیں جن کی قیمت بھارت میں صرف INR 100 (تقریباً $1.

11) اور سری لنکا میں LKR 1000 (تقریباً $3.26) سے شروع ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں

پی سی بی کی فری ٹکٹ پالیسی سے قذافی اسٹیڈیم کی رونق بڑھ گئی

آئی سی سی کے مطابق پہلی مرحلے میں دسمبر میں لگ بھگ دو ملین سے زائد ٹکٹ فروخت کے لیے دستیاب کیے گئے تھے اور اب اضافی ٹکٹوں کی فروخت کا فیز شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مزید شائقین ٹکٹ حاصل کر سکیں۔

کرکٹ شائقین کے لیے یہ خوشخبری خاص طور پر خوش آئند ہے اور فتح و شکست کے سنسنی خیز مقابلوں کی امید ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی

لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔

ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی