حکومت کا نئے کرنسی نوٹ چھاپنے کا فیصلہ ،وفاقی کابینہ نے منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
حکومت کا نئے کرنسی نوٹ چھاپنے کا فیصلہ ،وفاقی کابینہ نے منظوری دیدی WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )حکومت نے نئے کرنسی نوٹ چھاپنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی، کابینہ نے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور و خوض کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاوس ، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وفاقی کابینہ کو وزارت خزانہ کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری ہونے والے بینک نوٹوں کے نئے ڈیزائن کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں کو جدید عصری تقاضوں کے حوالے سے ڈیزائن کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ایک سو، پانچ سو، ایک ہزار اور پانچ ہزار روپے کے نئے ڈیزائن کے بینک نوٹ متعارف کروائے جائیں گے۔بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں میں زیادہ بہتر سیکیورٹی فیچر استعمال کیا جائے گا، نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں پاکستان کی علاقائی اور جغرافیائی تنوع اور تاریخی یادگاروں کو جگہ دی گئی ہے جبکہ خواتین کی قومی ترقی میں شمولیت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم معاشرتی موضوعات کو بھی ڈیزائن کا حصہ بنایا جائے گا۔وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور و خوض کے لئے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے پیش کی گئی پرائیویٹ حج آپریٹرز کمپنیز کی تھرڈ پارٹی کے ذریعے رجسٹریشن اور جانچ کے حوالے سے پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کا مسودہ کابینہ اراکین کی آرا کی روشنی میں مزید غور و خوض کے لئے حج پالیسی کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کردی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 24 دسمبر 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23 دسمبر 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرراجہ شہزاد اسلم کے صاحبزادے راجہ احمد شہزاد رشتہ ازدواج میں منسلک راجہ شہزاد اسلم کے صاحبزادے راجہ احمد شہزاد رشتہ ازدواج میں منسلک ایران پر امریکی حملہ رکوانے کیلئے 3عرب ممالک میدان میں آگئے، ٹرمپ سے رابطے ایران کی سعودیہ، قطر، امارات میں امریکی فوجی اڈے تباہ کرنے کی جوابی دھمکی پنجاب حکومت کا ماحول دوست اقدام، سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد آٹھ فروری کی کال عمران خان کی نہیں اپوزیشن اتحاد کی ہے، علیمہ خان ممکنہ امریکی حملے کا خدشہ، بھارت نے اپنے تمام شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔