بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے سے مالی نقصان نہیں ہوگا: بنگلا دیش کرکٹ بورڈ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا: بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے فنانس کمیٹی کے سربراہ نجم الحسین نے کہا ہے کہ بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں بورڈ کو کسی قسم کا مالی نقصان نہیں ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نجم الحسین کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ میں شرکت کے باوجود کرکٹ بورڈ کو براہِ راست کوئی مالی فائدہ نہیں ملتا، اس لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے سے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، اس فیصلے سے کھلاڑیوں کو نقصان ہوگا کیونکہ انہیں میچ فیس کی مد میں رقم نہیں ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں کھلاڑیوں کا مالی ازالہ نہیں کیا جائے گا، خراب کارکردگی کے باوجود بورڈ کھلاڑیوں پر کروڑوں ٹکہ خرچ کرتا ہے اور ہم نے کبھی کھلاڑیوں سے یہ نہیں کہا کہ وہ رقم واپس کریں، جب بورڈ ہی نہ ہوگا تو کھلاڑی کیسے رہ سکیں گے۔
نجم الحسین نے مزید کہا کہ 2027 تک بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی آمدن متاثر نہیں ہوگی کیونکہ اس حوالے سے فیصلہ 2022 میں آئی سی سی فنانس کمیٹی میں ہو چکا ہے، مستقبل کے ورلڈکپس، دوطرفہ سیریز اور دیگر بین الاقوامی ایونٹس میں یہ معاملہ اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ مستقبل میں ٹیمیں فیوچر ٹور پروگرام (ایف ٹی پی) کے تحت بنگلا دیش کا دورہ کریں گی یا نہیں۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش کے فاسٹ بولر مستقیض الرحمان کو ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) نے ریلیز کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچز بھارت سے کسی اور ملک منتقل کیے جائیں، جبکہ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کہا کہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔