Express News:
2026-07-24@16:11:35 GMT

مودودی صاحب کا ایک تاریخی مراسلہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

اگرچہ انتخابی سیاست اور پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی اب گئے دنوں کی بھولی بسری کہانی بن چکی ہے۔ تاہم، پاکستان کی تاریخ میں مذہبی سیاست کے اس منفرد’ انتخابی تجربہ‘ سے تاریخ کے طالب علموں کو ہمیشہ دل چسپی رہے گی۔ جو لوگ اس جماعت کی تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ جماعت کے اندر دوموضوعات، ایک، انتخابی سیاست کے امکانات اور دوسرے، امیر جماعت کے اختیارات، ہمیشہ زیربحث رہے ہیں۔ انتخابی سیاست میں اپنی ہزیمت کو بظاہر اہل جماعت قضائے الٰہی سمجھ کے قبول کر چکے ہیں۔

چنانچہ، گزشتہ الیکشن میں بدترین شکست کے باوجود جماعت کے اندر کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوا۔ البتہ، آج بھی جب کوئی نیا امیر منتخب ہوتا ہے، اور اس کے بعد وہ جماعت کے اوپر اپنی شخصیت کا نیا غلاف چڑھاتا ہے، تو جماعت کے اندر کچھ نہ کچھ ہل چل ضرور محسوس ہوتی ہے، بلکہ پیچھے مڑ کے دیکھیں، تو خود بانی ِجماعت ابوالاعلیٰ مودودی کو بھی بطور امیر اس نوعیت کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بنا بریں، جنوری1957 میں، انھوں نے اس تنازع کے حتمی طور پر فیصل ہو نے تک جماعت کی امارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا، اور ماچھی گوٹھ کل پاکستان اجتماع سے قبل تمام ارکان جماعت کو ایک مراسلہ کے ذریعہ براہ راست اس مبحث پر اپنے نقطہء نظر سے آگاہ کیا تھا۔ جماعت کے اندرونی ڈھانچے، انتخابی سیاست سے اس کی عدم مطابقت، اور اس کے نتیجہ میں انتخابی ناکامی کو اس مراسلہ کی روشنی میںکافی حد تک سمجھا جا سکتا ہے۔

بانی جماعت رقم طراز ہیں، ’جماعت اسلامی صرف ایک جماعت یا انجمن نہیں، بلکہ ایک تحریک کی علم بردار ہے۔ یہ جماعت پورے نطام زندگی میں ہمہ گیر تغیر و انقلاب اور اصلاح و تعمیر کی تحریک ہے۔ جو جماعت اس طرح کی تحریک چلا رہی ہو، اس میں قیادت کا مقام اگر کسی شخص کو دیا جائے، تو اسے بیک وقت دو مختلف نوعیت کے کام کرنے پڑتے ہیں۔

ایک تحریک کی راہ نمائی اور دوسرے نظام جماعت کی سربراہی۔ یہ دونوں کام صرف نوعیت ہی میں ایک دوسرے سے مختلف نہیں، بلکہ ان کے تقاضے بسا اوقات ایک دوسرے کی ضد ہو جاتے ہیں۔ نظامِ جماعت کو چلانا ایک انتظامی نوعیت کا کام ہے، لامحالہ ایک دستور چاہتا ہے۔ اس کے سربراہ کی حیثیت ایک صدر انجمن، ایک ناظم، یا ایک ایگزیکٹو سے مختلف نہیں ہو سکتی۔ اس کو لازماً کچھ مقرر اختیارات دیے جائیں گے اور کچھ حدود کا پابند کیا جائے گا۔اگر ایسے کسی ادارے کو جمہوری طرز پر چلنا ہو، تو اس میں اختلافات کا دروازہ کھلا ہونا چاہیے۔ فروعی ہی نہیں، اصولی اختلافات کی گنجایش بھی رہنی چاہیے۔ اظہار رائے ہی نہیں، اپنے نقطۂ نظر کے حق میں دوسروں کی رائے ہموار کرنے کی بھی آزادی ہونی چاہیے ۔

تحریک کا مزاج وحدت فکر، وحدت قلب و روح اور زیادہ سے زیادہ وحدت عمل چاہتا ہے۔ اس سے تعلق رکھنے والوں کے دلوں اور دماغوں اور طبیعتوں میں جتنی ہم آہنگی، اور سعی و حرکت میں جتنی مطابقت ہو، اتنی ہی وہ طاقتور ہے، اور جتنا ان کے درمیان فرق ہو، اتنی ہی کمزور ہے۔ ایک تحریک کی ہوا اکھاڑنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اس کے دو ترجمان دو مختلف زبانوں سے بولنا شروع کردیں۔ تحریکوں میں اکثریت و اقلیت کا سوال پیدا ہونا سرے سے غلط ہے۔ جس تحریک میں یہ قاعدہ چلنے لگے کہ فیصلے اکثریت سے ہوں گے یا اقلیت، اکثریت کے درمیان سمجھوتے سے مخلوط پالیسیاں بنائی جائیں گی، اسے کوئی چیز شکست و ناکامی سے نہیں بچا سکتی ۔

جس شخص کو جدوجہد یا کشمکش کے دور میں کسی تحریک کی راہ نمائی کرنی ہو، اس کے کام کی نوعیت اس کمانڈر کے کام سے ملتی جلتی ہے، جو میدان جنگ میں فوج کی قیادت کر رہا ہو۔ وہ دیے گئے نقشوں پر فوج کو نہیں لڑا سکتا۔ اپنے نقشے اسے خود سوچنے اور بنانے پڑتے ہیں۔ وہ ہر وقت کونسلیں بلا کر اور ان سے پوچھ پوچھ کرکام نہیں کر سکتا ۔ اس کو بسا اوقات فیصلہ کرنے کے لیے گھنٹوں اور منٹوں کی مہلت بھی نہیں ملتی۔ وہ مشورے لے بھی سکتا ہے اور اسے مشورے دیے بھی جا سکتے ہیں، لیکن اگر تحریک اس کو چلانی ہے، تو فیصلہ مشیروں کے ہاتھ میں نہیں، اس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔‘

آگے اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ’اگر پہل اس کے اختیار میں نہ ہو، تو وہ کمانڈر نہیں، سپاہی ہے۔ اس کو فوج پر یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ اس کی اطاعت کرے گی، اور فوج کو اس پر اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ بر وقت اور صحیح فیصلے کرے گا۔ اس کے اور فوج کے درمیان مشیر حائل نہیں ہو سکتے۔

مشترکہ کمانڈ کا حشر میدان جنگ میں وہ ہوا کرتا ہے، جو ساجھے کی ہنڈیا کا حشر چوراہے میں ہوتا ہے۔ اس طرح اس کے اور فوج کے درمیان لگے بندھے قاعدے اور ضابطے بھی حائل نہیں ہو سکتے۔اسے یہ بھروسہ ہونا چاہیے کہ جس کو جس وقت بھی وہ پیچھے ہٹنے کو کہے گا، وہ ہٹ جائے گا، اور جس کو آگے بڑھنے کا حکم دے گا، وہ بڑھ جائے گا۔ حالت جنگ میں اسے احکامات کی وجہ بتانے پر مجبور نہ ہونا چاہیے، کجا کہ اس کو ان کی جواب دہی کرنی پڑ جائے، اور جنگ چھوڑ کر وہ ساری فوج مقدمہ بازی میں لگ جائے۔ فوج اگر چاہے تو کمانڈر تبدیل کر سکتی ہے۔

لیکن، اگر اسے لڑنا اور اپنے مقصود کو پہنچنا ہے تو جسے بھی وہ کمانڈر بنائے، اس کو یہی اختیارات دینے ہوں گے، اور مجبوراً نہیں بلکہ دلی رضا اور اعتماد کے ساتھ دینا ہوں گے، ورنہ بہتر ہے کہ وہ لڑائی کا خیال چھوڑ دے۔اس فوج کو شکست کے لیے ہی نہیں، تباہی کے لیے بھی تیار ہو جانا چاہیے ، جو عین حالت جنگ میں اپنی مخالف قوتوں کو خبر دے کہ اس کا کمانڈر، کمانڈر نہیں، بلکہ جنرل اسٹاف کا محض ایجنٹ ہے، اور جنرل اسٹاف ایک مجلس مباحثہ ہے، جس میں فوجی افسر تدابیر جنگ سے گزر کر خود مقصد جنگ ہی پر دس دس پندرہ پندرہ دن مناظرہ کرتے رہتے ہیں، ا ور ہائی کمانڈ کے فیصلے اب فوجی افسروں کی اکثریت کے ووٹ یا ان کے گروپوں کی مفاہمت پر موقوف ہو کر رہ گئے ہیں ۔

دینی تحریک ہو یا دنیوی، ایک شخصیت کے بغیر اس کا کام نہیں چلتا۔ اللہ تعالیٰ نے خود اسلامی تحریک کے لیے انبیاء کی شخصیتیں سامنے لا کے رکھ دیں۔ انبیاء کے بعد جب اور جہاں بھی کوئی دینی تحریک اٹھی، ایک شخصیت کے بل پر اٹھی ہے۔ اسی صدی میں دو خالص دنیوی تحریکیں ہمارے برصغیر میں چل چکی ہیں۔ ایک نے برطانوی ہند کا تختہ الٹ کر ہندوستان کو آزاد کرایا، اور دوسری نے ہندوؤں کے حلق سے پاکستان اگلوایا۔ یہ جو کچھ بھی کامیابی ان دونوں تحریکوں کو نصیب ہوئی، ایک ایک شخصیت کے بل پر ہی ہوئی ہے، اور دیکھ لیجیے کہ وقت کے کیسے کیسے بڑے لوگوں نے اپنی شخصیتوں کو ان لیڈروں کی شخصیتوں میں گم کر دیا تھا۔ یہ تحریکوں کا فطری مزاج ہے۔‘‘

بانی جماعت ابوالاعلیٰ مودودی 1942ء سے 1972 تک 30 برس امیر جماعت رہے، اور اسی اصول امارت پر اپنی جماعت اور تحریک کی قیادت کی، بلکہ ان کے بعد آج تک ان کی جماعت اسی اصول پر عمل پیرا ہے۔ اس دوران جس نے بھی امیر موصوف سے اختلاف کی جسارت کی، اس کو جلد یا بدیر جماعت سے نکلنا ہی پڑا۔ ابوالحسن علی ندوی اور امین احسن اصلاحی سے ڈاکٹر اسرار احمد اور وحید الدین خاں تک، اور تا زہ ترین مثال مشتاق احمد خان ہیں، جنھوں نے موجودہ امیر سے اختلاف کی بنا پر اپنی راہیں جدا کی ہیں۔ نظر بظاہر یہی آتا ہے کہ بانی جماعت کے اس Cult oriented اصول قیادت کی تقلید کے نتیجہ ہی میں جماعت سیاسی طور پر بجائے پھلنے پھولنے کے، جس کی استعداد ابتدائی طور پر اس میں موجود تھی، آج اپنے اندر سکڑتے سکڑتے قومی دھارے سے الگ محض ایک Disciplined community بن کے رہ گئی ہے، بقول شاعر

کس نہ ندانست کہ منزل گہ مقصود کجاست

این قدر ہست کہ بانگ جرسے می آید

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انتخابی سیاست جماعت کے اندر ہونا چاہیے کے درمیان تحریک کی نہیں ہو کے لیے اور اس

پڑھیں:

تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ

پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد ایک خاتون حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان سے محروم ہوجاتی ہے، ماں کی زندگی بچانے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی سہولیات تک رسائی ضروری ہے۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے شعبہ امراض نسواں وارڈ 9-B کے اشتراک سے چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین صحت، محققین، پالیسی سازوں اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

سمٹ کا موضوع ’’نوجوان، خاندانی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل جدت‘‘ تھا، جس کا مقصد زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اور مؤثر حکمت عملیوں پر غور کرنا تھا۔

سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سندھ حکومت زچگی کی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے، پرانی ڈسپنسریوں کو برتھنگ اسٹیشنز میں تبدیل کیا جارہا ہے، جبکہ کمیونٹی مڈوائفز کو محفوظ طریقے سے گھروں میں زچگی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تربیت دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیچیدہ اور ہنگامی زچگی کے کیسز کو بروقت اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جارہا ہے، جبکہ صحت کے مراکز پر ادویات اور ضروری طبی سامان کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین کے نظام میں بھی بہتری لائی جارہی ہے، تاکہ بنیادی سطح پر کام کرنے والے طبی عملے کو مریضوں کی جان بچانے کے لیے تمام ضروری سہولیات دستیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آ کر اپنا مؤقف دیں۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ اسپتالوں کی خامیوں کی نشاندہی کریں، کیونکہ آپ کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے، ڈاکٹرز میڈیا کو مؤقف دیں اور تمام حقائق سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال کے مسائل کے لیے ڈاکٹر خالد شیر سے رابطہ کریں، میں نے ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے کہ اب سے وہ میڈیا کو مؤقف دیں گے۔

کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں جاری چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ آج میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ سندھ کیا کر رہا ہے، سندھ حکومت کیا کر رہی ہے، اور سندھ اس حوالے سے ملک میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے ایسے قوانین بنائے ہیں جو کہیں اور موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی سیکشن کی وجہ سے سندھ میں شرحِ اموات بڑھ رہی ہے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اس کے نتائج نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خاتون تیسرے سی سیکشن کے بعد آئے، اس کی ٹی ایل کر دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں، اس لیے اس میں بہتری کے لیے پیدائشی اسٹیشن سینٹرز بنائے جا رہے ہیں۔

وزیر جامعات و بورڈ اسماعیل راؤ نے سمٹ کے انعقاد پر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ نوجوانوں میں تولیدی صحت، ذمہ دارانہ فیصلوں اور صحت سے متعلق آگاہی کا شعور بھی اجاگر کرنا ہے۔

وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور چیف پیٹرن پروفیسر امجد سراج میمن نے مردانہ مانع حمل طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کے لیے ویزیکٹومی ایک اہم ذریعہ ہے، اس حوالے سے آگاہی اور تمام اسپتالوں میں سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ویزیکٹومی کے کیسز 2021 میں 24 سے بڑھ کر 2025 میں 4 ہزار سے تجاوز کرگئے ہیں، جس رجحان کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

چیف آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ، پرو وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور سربراہ شعبہ امراض نسواں وارڈ 9-B، جے پی ایم سی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں سالانہ تقریباً 60 لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے، جبکہ مانع حمل طریقوں کا استعمال صرف 34 فیصد ہے اور 17.8 فیصد افراد کی خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات پوری نہیں ہورہیں۔

انہوں نے کہا کہ سمٹ کا مقصد نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل ذرائع اور درست معلومات سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی صحت اور مستقبل سے متعلق باخبر اور ذمہ دارانہ فیصلے کرسکیں۔سمٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ڈاکٹر خالد شیر سمیت دیگر ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں نے بھی شرکت کی۔

مقررین نے زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی میں توازن کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد حمل اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ایک خاتون کی موت کا مسئلہ انتہائی تشویشناک ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بروقت طبی امداد، محفوظ زچگی، خاندانی منصوبہ بندی اور بنیادی صحت کی سہولیات تک آسان رسائی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

سمٹ میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ’’ماں رہے سلامت‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کے بہتر عوامی صحت کے مستقبل کے لیے ایک مستقل اور متحد قومی ترجیح بننا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنیوالی خواتین کا مانع حمل آپریشن کر دینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • بلاول برخوردار میری بات کا بُرا نہ ماننا، نوک جھوک ہونی چاہیے، مار کٹائی نہیں، نواز شریف
  • بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف
  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم