میرپورخاص،تعلیمی بورڈ پروفیسر ز کے واجبات فوری ادا کرے،جمیل بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260115-11-13
میرپورخاص (نمائندہ جسارت) سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن میرپورخاص کے ضلعی صدر پروفیسر جمیل احمد بلوچ ریجنل جوائنٹ سیکرٹری حیدرآباد پروفیسر غلام مرتضی سولنگی جنرل سیکرٹری پروفیسر شمشاد علی تالپر نائب صدر پروفیسر ایاز احمد جوائنٹ سیکرٹری پروفیسر رامچند خاتون نائب صدر پروفیسر نورین صبا خاتون جوائنٹ سیکرٹری پروفیسر مہتاب میرانی فنانس سیکرٹری پروفیسر بختیار علی پریس سیکرٹری پروفیسر علی رضا کے کے اور ضلع بھر کے کالجز کے عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں میرپورخاص تعلیمی بورڈ کی جانب سے کاپیوں کی اسسمنٹ، سینٹرل بلز، پریکٹیکل چارجز، ایکسٹرنل اور ویجلینس کے بلز کی عدم ادائیگی پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہاہے کہ سال 2021ء سے 2025ء تک کے واجبات تاحال ادا نہیں کئے گئے ہیں اسی طرح کاپیوں کی اسسمنٹ نان گزیٹڈ اور پرائیوٹ اساتذہ سے کروا کر میرٹ کا قتل کیا جا رہا ہے سینٹرالز اسسمنٹ کے بجائے گھروں پر کاپیاں بھیجی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں لائق بچوں اور بچیوں کا استحصال ہو رہا ہے، امتحانی پیپرز سینئر پروفیسرزکے بجائے کسی نان ٹیکنیکل ٹیچرز سے بنوائے جاتے ہیں بورڈ میں کروڑوں کا بجٹ صرف اپنی تنخواہوں اور TA ,DA پر خرچ کیا جاتا ہے بجٹ کا خاصا حصہ بورڈ کے افسران کے کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالج استاد بھی بورڈ کا اسٹاک ہولڈر ہے لیکن اساتذہ کے واجبات کی عدم ادائیگی ان کی نا اہلی کا ثبوت ہے۔ سپلا کے عہدیداران بار بار اپنے مطالبات کے لئے کنٹرولر اور سیکرٹری بورڈ کو توجہ دلاتے رہے ہیں لیکن ان کی طرف سے حوصلہ افزا جواب نہیں ملتا گزشتہ ایک ماہ سے چیئرمین بورڈ سے ملاقات کے لئے تحریری وقت مانگا گیا لیکن ملاقات کا وقت نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے چیئرمین تعلیمی بورڈ کنٹرولر اور سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ فوری پروفیسرز کے واجبات ادا کئے جائیں بصورت دیگر بورڈ کے ذمے داران کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائی کا حق رکھتے ہیں بلکہ بورڈ کے افسران کے خلاف مظاہرے اور دھرنے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں اور آئندہ آنے والے نہ صرف امتحانات بلکہ تعلیمی بورڈ کے ہر قسم کے کام کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکرٹری پروفیسر تعلیمی بورڈ کے واجبات بورڈ کے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔