data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260115-11-13
میرپورخاص (نمائندہ جسارت) سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن میرپورخاص کے ضلعی صدر پروفیسر جمیل احمد بلوچ ریجنل جوائنٹ سیکرٹری حیدرآباد پروفیسر غلام مرتضی سولنگی جنرل سیکرٹری پروفیسر شمشاد علی تالپر نائب صدر پروفیسر ایاز احمد جوائنٹ سیکرٹری پروفیسر رامچند خاتون نائب صدر پروفیسر نورین صبا خاتون جوائنٹ سیکرٹری پروفیسر مہتاب میرانی فنانس سیکرٹری پروفیسر بختیار علی پریس سیکرٹری پروفیسر علی رضا کے کے اور ضلع بھر کے کالجز کے عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں میرپورخاص تعلیمی بورڈ کی جانب سے کاپیوں کی اسسمنٹ، سینٹرل بلز، پریکٹیکل چارجز، ایکسٹرنل اور ویجلینس کے بلز کی عدم ادائیگی پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہاہے کہ سال 2021ء سے 2025ء تک کے واجبات تاحال ادا نہیں کئے گئے ہیں اسی طرح کاپیوں کی اسسمنٹ نان گزیٹڈ اور پرائیوٹ اساتذہ سے کروا کر میرٹ کا قتل کیا جا رہا ہے سینٹرالز اسسمنٹ کے بجائے گھروں پر کاپیاں بھیجی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں لائق بچوں اور بچیوں کا استحصال ہو رہا ہے، امتحانی پیپرز سینئر پروفیسرزکے بجائے کسی نان ٹیکنیکل ٹیچرز سے بنوائے جاتے ہیں بورڈ میں کروڑوں کا بجٹ صرف اپنی تنخواہوں اور TA ,DA پر خرچ کیا جاتا ہے بجٹ کا خاصا حصہ بورڈ کے افسران کے کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالج استاد بھی بورڈ کا اسٹاک ہولڈر ہے لیکن اساتذہ کے واجبات کی عدم ادائیگی ان کی نا اہلی کا ثبوت ہے۔ سپلا کے عہدیداران بار بار اپنے مطالبات کے لئے کنٹرولر اور سیکرٹری بورڈ کو توجہ دلاتے رہے ہیں لیکن ان کی طرف سے حوصلہ افزا جواب نہیں ملتا گزشتہ ایک ماہ سے چیئرمین بورڈ سے ملاقات کے لئے تحریری وقت مانگا گیا لیکن ملاقات کا وقت نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے چیئرمین تعلیمی بورڈ کنٹرولر اور سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ فوری پروفیسرز کے واجبات ادا کئے جائیں بصورت دیگر بورڈ کے ذمے داران کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائی کا حق رکھتے ہیں بلکہ بورڈ کے افسران کے خلاف مظاہرے اور دھرنے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں اور آئندہ آنے والے نہ صرف امتحانات بلکہ تعلیمی بورڈ کے ہر قسم کے کام کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیکرٹری پروفیسر تعلیمی بورڈ کے واجبات بورڈ کے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف