Jasarat News:
2026-06-03@00:54:44 GMT

بلدیاتی قانون کیخلاف عوامی ریفرنڈم کل ہوگا،جاوید قصوری

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے صوبائی دفتر منصورہ میں ڈاکٹر بابر رشید سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب اور محمد فاروق چوہان سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پنجاب کے ہمراہ حکومت پنجاب کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف اور جماعت اسلامی کے لاہور سمیت پورے صوبے میں ہونے والے عوامی ریفرنڈم کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15تا 18 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی ایکٹ کے کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے عوامی ریفرنڈم کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس عوامی ریفرنڈم میں ہر سیاسی جماعت کے کارکنان، سول سوسائٹی، وکلاء ، طلبہ، تاجر برادری اور عام شہری بلا تفریق بھرپور شرکت کریں گے۔ بلدیاتی ایکٹ کا موجودہ قانون عوام کے حقِ نمائندگی پر کھلا ڈاکہ ہے۔ یہ قانون مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں مکمل طور پر مفلوج کرنے کی سازش ہے۔ جماعت اسلامی اس عوام دشمن قانون کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور جب تک حکومت اس متنازعہ قانون کو سب کے لیے قابل قبول نہیں بناتی اور اس میں ضروری ترامیم نہیں کرتی، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کے لیے بیلٹ باکس بڑی تعداد میں تیار کر لیے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں ہر اہم چوک، چوراہے، بازار اور مصروف عوامی مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آسانی سے اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں علیحدہ پولنگ پوائنٹس اور رضاکار خواتین کی خدمات شامل ہیں۔ یہ ریفرنڈم کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی اور مقامی جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ عوام گھروں سے نکل کر اس عوامی ریفرنڈم میں بھرپور شرکت کریں اور حکومت کو واضح پیغام دیں کہ وہ عوام کی مرضی کے خلاف مسلط کیے گئے قوانین کو مسترد کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل، بااختیار بلدیاتی نظام اور حقیقی جمہوریت کے قیام تک اپنی آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، کیونکہ یہی وہ نظام ہے جس کے ذریعے عوام کو نچلی سطح پر اپنے مسائل کے حل اور فیصلوں میں براہِ راست شرکت کا موقع ملتا ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب میں نافذ کیا گیا پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 نہ صرف آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے بلکہ جمہوری اقدار اور عوامی حقِ حکمرانی پر بھی ایک سنگین حملہ ہے۔ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔ جماعتی بنیادوں پر انتخابات سے سیاسی عمل مضبوط ہوتا ہے، عوام کو واضح سیاسی نظریات اور منشور کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا حق ملتا ہے اور نمائندوں کی جواب دہی یقینی بنتی ہے۔ غیر جماعتی انتخابات درحقیقت جمہوریت کو کمزور کرنے اور مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں، جس کا خمیازہ ہمیشہ عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یوسی چیئرمین کا انتخاب عوام کے براہِ راست ووٹوں سے کیا جائے۔ بالواسطہ نظامِ انتخاب عوامی رائے کو کمزور اور سودے بازی کو فروغ دیتا ہے۔ جب عوام خود اپنے چیئرمین کا انتخاب کریں گے تو اس نمائندے کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا اور وہ حقیقی معنوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کرے گا۔بلدیاتی حکومتوں کو آئین کے مطابق مکمل مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات دیئے جائیں۔ اختیارات کے بغیر بلدیاتی ادارے محض نمائشی ڈھانچہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ جب تک مقامی حکومتوں کو اپنے وسائل، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی فیصلوں کا اختیار نہیں دیا جائے گا، تب تک نچلی سطح پر حقیقی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔امیر جماعت اسلامی پنجاب کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A واضح طور پر مقامی حکومتوں کے قیام اور انہیں اختیارات کی منتقلی کا تقاضا کرتا ہے، لیکن پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 اس آئینی تقاضے کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔سرکاری افسران اور بیوروکریسی کو منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت کیا جائے۔ جمہوریت کا اصول یہ ہے کہ منتخب نمائندے پالیسی بنائیں اور سرکاری افسران ان پالیسیوں پر عملدرآمد کریں۔ بدقسمتی سے موجودہ قانون کے تحت بیوروکریسی کو بالادست رکھا گیا ہے، جس سے عوامی نمائندے بے اختیار اور نظام غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی عوامی امنگوں کے سراسر خلاف ہے۔پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 ایک کالا قانون ہے، جو آئین، جمہوریت اور عوام کے حقِ حکمرانی کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون اختیارات کو چند ہاتھوں میں مرکوز کرنے کی کوشش ہے اور اس کا مقصد عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنا ہے۔ حکومتِ پنجاب آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنائے، جماعتی بنیادوں پر شفاف انتخابات کا اعلان کرے، بڑے شہروں کو میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا درجہ دیا جائے اور ضلعی حکومتوں کو بھی با اختیار بنایا جائے۔

وقائع نگار خصوصی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پنجاب عوامی ریفرنڈم بلدیاتی ایکٹ حکومتوں کو عوام کے کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی