Jasarat News:
2026-06-02@22:29:17 GMT

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا سیاسی رومانس

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پیپلز پارٹی کی قیادت کے بقول ہم حکومت کا حصہ نہیں ہیں لیکن ریاست کے مفاد میں ہم حکومت کے اتحادی ہیں اور تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود ہم حکومت کے اتحادی بھی رہیں گے اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے حکومت کی بدستور حمایت بھی جاری رکھیں گے۔ جو کچھ بلاول زرداری نے کہا وہ درست ہے اور پیپلز پارٹی حکومت میں براہ راست نہ ہونے کے باوجود اس حکومت کی حمایت کی وجہ سے اقتدار کی سیاست میں حکومت سے منافع بخش سیاسی قیمت بھی وصول کررہی ہے۔ آصف علی زرداری کی بطور صدر ایوان صدر میں موجودی، چیئرمین سینیٹ، بلوچستان اور سندھ حکومت، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں گورنرز، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی حکومت کی سطح پر انتظامی عہدوں پر من پسند تقرر، آزادکشمیر حکومت اور پنجاب میں ترقیاتی فنڈز کا حصول کو اقتدار کی سیاست ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ جو ہمیں دونوں بڑی پارٹیوں بالخصوص پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ کے خلاف سیاسی نوک جھوک یا پٹاخے اور پھلجھڑیاں دیکھنے کو ملتی ہیں یا کبھی پی پی پی اپوزیشن بننے کا تاثر دیتی ہے تو اس کی وجہ جہاں اس کی سیاسی ساکھ کا بحران ہے وہیں وہ اس بحران کو بنیاد بناکر حکومت پر دباؤ ڈال کر مزید اقتدار کی بندر بانٹ میں اپنی قیمت اور وصولی بڑھانا ہوتی ہے۔ یہ سیاسی داؤ پیچ اور گُر یا سیاسی کارڈ آصف زرداری کو خوب کھیلنے آتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ طاقت کے مراکز کے ساتھ اپنے کارڈ کیسے کھیلنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی خود کو حکومت تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے اور حکومت کے ساتھ پائور شیرنگ میں بھی آگے کھڑی نظر آتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس دوہرے معیار پر مسلم لیگ ن کے کچھ لوگ نالاں نظر آتے ہیں لیکن ان کے پاس اقتدار کی سیاسی بقا کے لیے کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر وہ پی پی پی کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں یا ان کے سیاسی نخرے اُٹھا رہے ہیں۔ ویسے بھی دونوں بڑی جماعتوں کا سیاسی بندوبست غیر سیاسی قوتوں کی وجہ سے ہے اور یہ شادی عملاً زبردستی کی شادی بھی ہے۔ لیکن عمران خان سے نمٹنے کے لیے ان دونوں جماعتوں کو جوڑ کر رکھنا بڑی قوتوں کی مجبوری بھی ہے۔ اس لیے یہ دونوں بڑی جماعتیں کچھ بھی ہو جائے ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھڑی رہیں گی اور دونوں جماعتیں عمران خان دشمنی میں سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے پرانی تنخواہ پرکام کرتی رہیں گی اور جو بھی ان میں سے ریڈ لائین کراس کرے گا اسے اچھے بچوں کی طرح ایک دوسرے کی حمایت میں بٹھا دیا جائے گا۔ کیونکہ جب ملک میں اصولوں کے بجائے طاقت اور اقتدار کی سیاست کو غلبہ ہے تو ایسے میں دونوں بڑی جماعتوں کا کردار یہی ہونا چاہیے جو وہ آج کی سیاست اور سیاسی فیصلوں میں کررہے ہیں۔ ویسے اس وقت جو سیاسی بحران ہے یا معیشت سمیت سیکورٹی کی سنگینی ہے اس کی ذمے دار بھی یہی دو بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ہے۔ جمہوریت اور سیاست کا کمزور ہونا یا جمہوری عمل کا دور ہونا، عدلیہ کی آزادی پر ضرب کاری، میڈیا اور آزادیٔ اظہار کی بندش، انسانی حقوق کی پامالی، اداروں کا سیاسی استعمال، اسٹیبلشمنٹ کے سامنے خود کو بے بس سمجھنا اور 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کی حمایت نے پی پی پی اور ن لیگ کے جمہوری تشخص کو بری طرح سے خراب کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا حد سے زیادہ کنٹرول اور سیاسی حکومت کا کمزور ہونے میں بھی ان ہی دونوں جماعتوں کا برابر کا حصہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور بالخصوص آصف زرداری نے طے کرلیا ہے ان کی جماعت نے خود کو اقتدار کی سیاست سے علٰیحدہ نہیں کرنا اور اسی لیے یہ دونوں جماعتیں ایک سے بڑھ کر ایک طاقت ور طبقہ کی سہولت کاری میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ اسی وجہ سے ان دونوں بڑی جماعتوں کا کردار قوم پر بوجھ بن گیا ہے اور ان کے پاس موجودہ حالات کی بہتری کا کوئی حل بھی نہیں ہے۔ خود اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقوں میں بھی ان کو بوجھ کے طور پر لیا جارہا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی ہوگی کہ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے سیاسی رومانس کی ایک بڑی بھاری قیمت ریاست اور اس کے عوام کو نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ کیونکہ ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو کوئی فکر نہیں اور نہ ہی ان کا اس ملک کے ریاستی نظام میں کوئی بڑا اسٹیک ہے اس لیے لوگ کس حال میں ہیں ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ویسے بھی لوگوں کو زیادہ عرصہ تک بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا اور لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ کس حالت میں ہیں اور اس کا ذمے دار کون ہے۔ ان دونوں جماعتوں کا اقتدار کی سیاست اور سیاسی بقا کا ایجنڈا بھی اسی نکتے سے جڑا ہوا ہے ہم اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت رہیں اور پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ کا کھیل بھی بدستور قائم رہے۔ اس لیے جو لوگ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی اختلاف کی چائے کی پیالی میں سے طوفان ڈھونڈ رہے ہیں انہیں مایوسی ہوگی، ایسا کچھ نہیں ہوگا اور یہ دونوں جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ میں ایک دوسرے کی مدد اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے ساتھ اپنا کھیل کل بھی کھیل رہے تھے اور آج بھی یہ کھیل وہ پوری طاقت کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ یہی ہماری قومی سیاست کا بڑا المیہ بھی ہے جہاں ریاست اور عوام کے مفاد کے مقابلے میں اہل اقتدار کے ذاتی مفاد زیادہ اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقتدار کی سیاست دونوں جماعتوں پیپلز پارٹی جماعتوں کا دونوں بڑی مسلم لیگ کی حمایت پی پی پی ہیں اور کے ساتھ ہے اور بھی ان کی وجہ اور اس

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے