امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے
بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری
صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش نظر متعدد ممالک نے حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابر اپناتے ہوئے اپنے سفارت خانوں اور شہریوں کے لیے الرٹ جاری کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں 28 دسمبر سے جاری شدید عوامی احتجاجی تحریک کے دوران امریکا کی انٹری سے حالات میں خطرناک حد تک کشیدگی بڑھ گئی۔رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر میں قائم امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید پر تعینات بعض امریکی فوجی افسران کو آج شام تک فوجی اڈّہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تین سفارتی ذرائعوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے۔ جس کا مطلب امریکی بیس سے فوجیوں کا باضابطہ انخلا نہیں۔ایک سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو یہ بھی بتایا کہ یہ محض فوجی پوزیشن میں تبدیلی ہے کسی ہنگامی انخلا کا حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی مخصوص خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔یاد رہے کہ العدید ایٔربیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔امریکی سفارتی ذرائعوں کے اس واضح مو?قف کے باوجود ایران پر حملے کے خدشات کم نہیں ہوئے ہیں جو صدر ٹرمپ کی گزشتہ روز دی گئی دھمکیوں سے بڑھ گئے تھے۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں فوج بھی اس پر غور کر رہی ہے اور ہمارے پاس بہت مضبوط آپشنز موجود ہیں۔برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران میں محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فوری وطن واپس آنے کی کوشش کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں سفارت خانے سے رابطے میں رہیں۔ ایران میں بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر بھارت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔تہران میں بھارتی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ایران میں “بدلتی ہوئی صورتحال” کے باعث بھارتی شہری ملک چھوڑ دیں۔بیان میں بھارتی شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتہائی محتاط رہیں، احتجاجی علاقوں سے دور رہیں اور مقامی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں۔ایران میں جاری بدامنی کے باعث پاکستانی طلبہ کی واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ تقریباً 60 پاکستانی طلبا ایران سے جنوبی بلوچستان کے دور دراز گبد (Gabd) بارڈر کراسنگ کے ذریعے وطن لوٹے۔ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ ایرانی جامعات نے امتحانات ری شیڈول کر دیے ہیں اور غیر ملکی طلبا کو عارضی طور پر وطن واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔امریکا کے ایران پر ممکنہ بڑے فوجی حملے پر اسرائیل سمیت متعدد اتحادی ممالک نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ ابھی ساری توجہ ایرانی حکومت کو کمزور سے کمزور تر بنانے پر مرکوز رکھی جائے۔امریکا کے اتحادی ممالک نے خبردار کیا کہ ایرانی حکومت کو مزید کمزور کیے بغیر کی جانے والی کوئی بڑی فوجی کارروائی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی اداروں کا کنٹرول حاصل کرلیں، مدد بس پہنچنے والی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے شہریوں کو اپنے شہریوں امریکا کے ایران میں ممالک نے ایران پر گئی ہے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔