امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کے لیے پیش کی گئی وار پاورز قرارداد کو مسترد کر دیا۔

قرارداد کی قسمت 50 کے مقابلے میں 50 ووٹوں پر آ کر رک گئی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹائی بریکنگ ووٹ دے کر اسے ناکام بنا دیا۔

اس قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری لینے کا پابند بنانا تھا۔

 صرف 3 ریپبلکن سینیٹرز کی حمایت

ڈیموکریٹک سینیٹرز نے متفقہ طور پر قرارداد کی حمایت کی، تاہم ریپبلکن پارٹی کے صرف 3 ارکان ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
ابتدائی طور پر 5 ریپبلکن سینیٹرز نے قرارداد کو سینیٹ میں لانے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جن میں ٹوڈ ینگ (انڈیانا) اور جوش ہالی (مسوری) بھی شامل تھے، مگر حتمی ووٹنگ سے قبل دونوں نے حمایت واپس لے لی۔

 آخری لمحوں میں ووٹ تبدیل

جوش ہالی نے ووٹنگ سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ اب قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے، جبکہ ٹوڈ ینگ آخری لمحات تک غیر یقینی حیثیت رکھتے تھے۔

بعد ازاں ٹوڈ ینگ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہیں اعلیٰ قومی سلامتی حکام سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وینزویلا میں اس وقت کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں۔ اگر مستقبل میں بڑی فوجی کارروائی کی ضرورت پڑی تو ٹرمپ انتظامیہ پہلے کانگریس سے اجازت لے گی۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ایک خط بھی شیئر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ حالات اجازت دیں تو کانگریس کو پیشگی اطلاع دی جائے گی۔

 وینزویلا حملے پر قانونی سوالات

یہ قرارداد 3 جنوری کو صدر ٹرمپ کے اچانک اعلان کے بعد پیش کی گئی، جس میں انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت گرانے کے لیے فوجی کارروائی کا اعتراف کیا تھا۔

حملے کے دوران دارالحکومت کاراکاس اور فوجی اڈوں پر دھماکے ہوئے۔ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا۔ 2 امریکی فوجی زخمی اور تقریباً 80 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کیوبا کے سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ ہم ملک چلائیں گے جب تک ایک محفوظ اور مناسب انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو جائے۔

 کانگریس کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی

صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تسلیم کیا کہ کانگریس کو حملے سے پہلے مطلع نہیں کیا گیا۔
روبیو کے مطابق یہ ایسا مشن تھا جس میں کانگریس کو اطلاع دینا ممکن نہیں تھا۔

ٹرمپ نے اس کی وجہ سیکیورٹی خدشات بتاتے ہوئے کہا کہ  کانگریس میں معلومات لیک ہو جاتی ہیں، ہم لیکس نہیں چاہتے تھے۔

 آئینی اختیارات پر بحث

امریکی آئین کے مطابق صدر افواج کا کمانڈر انچیف ہوتا ہے لیکن جنگ کا اعلان اور فوجی کارروائی کی اجازت دینا کانگریس کا اختیار ہے۔

تاہم 9/11 کے بعد منظور ہونے والی AUMFs کے تحت صدور نے یکطرفہ کارروائیاں کیں، مگر وینزویلا ان اجازت ناموں کے دائرے میں نہیں آتا، جس سے حملے کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھے۔

 جسٹس ڈیپارٹمنٹ کا متنازع میمو

امریکی محکمہ انصاف نے ایک 22 صفحات پر مشتمل میمو جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ مادورو کی گرفتاری ایک “قانونی کارروائی” تھی، جنگ نہیں، اس لیے کانگریس کی اجازت ضروری نہیں تھی۔

میمو میں کہا گیا کہ اگر صدر جانتے ہوں کہ کارروائی جنگ میں بدل جائے گی تو اجازت لازم ہے، مگر دسمبر 2025 تک ایسے شواہد موجود نہیں تھے۔

ریپبلکن پارٹی میں اختلافات

کئی ریپبلکن سینیٹرز نے اس مؤقف سے اختلاف کیا، جن میں لیزا مرکوسکی، رینڈ پال اور سوزن کولنز شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان سینیٹرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ امریکا کے دفاعی اختیارات کمزور کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ووٹنگ سے قبل بعض سینیٹرز کو فون بھی کیے، جبکہ سوزن کولنز کے ساتھ گفتگو مبینہ طور پر سخت زبان میں ہوئی۔

 رینڈ پال کا مؤقف

سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ ان کا ووٹ آئین کی بالادستی کے لیے تھا کہ یہ ریپبلکن بمقابلہ ڈیموکریٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ کانگریس اور صدر کے اختیارات کا ہے۔ آئین جنگ کا اختیار کانگریس کو دیتا ہے۔

 سیاسی خطرات

قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے 3 ریپبلکن سینیٹرز میں سے صرف سوزن کولنز اس سال ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں دوبارہ انتخاب لڑ رہی ہیں، جس کے باعث ان کے لیے ٹرمپ کی مخالفت سیاسی طور پر زیادہ خطرناک سمجھی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ریپبلکن سینیٹرز فوجی کارروائی کانگریس کو میں کہا کے لیے

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان