ایران پر امریکی حملہ رکوانے کیلئے 3عرب ممالک میدان میں آگئے، ٹرمپ سے رابطے WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز

ریاض (سب نیوز)سعودی عرب، قطر اور عمان نے صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کی دھمکی پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے خفیہ سفارت کاری کا آغاز کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر خلیجی عرب ممالک نے پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔سعودی عرب، قطر اور عمان امریکا کے قریبی اتحادی ہونے کے باوجود ایران پر حملے کے ممکنہ نتائج پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔یہ بات سی این این سے گفتگو میں سفارتی عمل کی براہ راست معلومات رکھنے والے ایک علاقائی عہدیدار نے بتائی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ان ممالک کا موقف ہے کہ ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے سیکیورٹی اور معاشی اثرات پورے مشرقِ وسطی میں محسوس کیے جائیں گے۔سی این این کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ بعض عرب حکومتوں نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ احتجاجی تحریک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔عرب حکومتوں کا مزید کہنا تھا کہ ایران پر فوجی کارروائی کا الٹا اثر ہوسکتا ہے جس سے ایران میں مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں کو اختلافات بھلا کر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع فراہم کردے گا۔
سی این این کے بقول سعودی عرب، قطر اور عمان کی حکومتوں سے اس پر مقف جاننے کے لیے رابطوں کی کوششوں کا جواب دینے سے گریز کیا گیا۔یاد رہے کہ عرب ممالک کی یہ خفیہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کو نقصان پہنچایا تو امریکا سخت فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں، احتجاج جاری رکھیں، مدد بس آ رہی ہے۔صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد خطے میں بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا کسی بھی وقت عسکری اقدام کر سکتا ہے۔جس کے جواب میں ایران نے جوابی دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔یہ بیان خاص طور پر خلیجی ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور دیگر ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور اہلکار موجود ہیں جنہیں ایران ماضی میں نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران کی سعودیہ، قطر، امارات میں امریکی فوجی اڈے تباہ کرنے کی جوابی دھمکی ایران کی سعودیہ، قطر، امارات میں امریکی فوجی اڈے تباہ کرنے کی جوابی دھمکی پنجاب حکومت کا ماحول دوست اقدام، سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد آٹھ فروری کی کال عمران خان کی نہیں اپوزیشن اتحاد کی ہے، علیمہ خان ممکنہ امریکی حملے کا خدشہ، بھارت نے اپنے تمام شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ایران میں موجود پاکستانی شہریوں اور طلبہ کیلئے وزارت خارجہ میں کوآرڈینیشن و مانیٹرنگ سیل قائم بلدیاتی انتخابات سے متعلق پنجاب حکومت کی ٹائم لائن پر عمل نہ کرنے پر نوٹس TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایران پر

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان