یمن بحران پر پاکستان کا اظہار تشویش، مکالمے اور سیاسی حل پر زور
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن کی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے یمن میں امن کے خلاف کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کی ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ پیش رفت اور تشدد میں اضافہ پہلے سے نازک امن عمل کو شدید خطرات سے دوچار کر رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
سفیر پاکستان عاصم افتخار نے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ اور اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ڈائریکٹر کی جانب سے دی گئی جامع بریفنگز کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازع پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی اور علاقائی کوششوں کے باوجود موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ تمام فریقین ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور مکالمے کی جانب واپس لوٹیں۔
پاکستان نے یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پائیدار امن کے لیے یہی بنیادی ستون ہیں۔ پاکستان نے خبردار کیا کہ ایسے یکطرفہ اقدامات جو تقسیم بڑھائیں یا کشیدگی میں اضافہ کریں، نہ صرف امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یمنی عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
عاصم افتخار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان یمنی قیادت اور وہاں جاری سیاسی عمل کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ سیاسی فریم ورک کے تحت ایک جامع، شمولیتی اور ملک گیر عمل کو ہی قابلِ عمل حل سمجھتا ہے۔ پاکستان نے علاقائی کوششوں، بالخصوص سعودی عرب کی سہولت کاری میں مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے تمام یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں۔
انہوں نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے عملے کی من مانی حراست و اقوام متحدہ کے اثاثوں پر قبضے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
علاوہ ازیں پاکستان نے تمام زیرِ حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ یمن میں امن کے لیے متحد اور ہم آہنگ کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئندہ بھی یمنی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر تعمیری کوشش کی حمایت کرتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پاکستان نے امن کے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔