پاکستان کی پاسپورٹس کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاسپورٹس کی عالمی رینکنگ میں پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ پاکستان پاسپورٹ کی حیثیت عالمی فہرست میں مضبوط ہورہی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ عالمی رینکنگ میں 126ویں نمبر سے 98ویں نمبر پر آگیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ ترقی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
Pakistan’s passport ranking improving from 126th to 98th is a strong achievement and this momentum will continue, InshaAllah.
واضح رہے کہ رواں برس کی پاسپورٹس کی فہرست میں ایشیائی ممالک نے سبقت حاصل کی ہے اور پہلے نمبر پر سنگاپور ہے۔ دوسرے نمبر پر جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر براجمان ہیں۔
سنگاپور کے شہریوں کو دنیا کے 227 میں سے 192 ممالک اور خطوں میں بغیر ویزا یا ویزا آن آرائیول کی سہوت حاصل ہونے کے باعث اوّل نمبر ملا ہے۔
جاپان اور جنوبی کوریا کے پاسپورٹس دوسرے نمبر پر ہیں جن پر 188 ممالک میں بغیر ویزے کے جایا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔