لاہور، ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی کرنے والے 8 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، این سی سی آئی اے نے لاہور سے 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پر ججز کی تضحیک اور کردار کشی کی تھی۔
لاہور لاہور ہائیکورٹ نے ججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم.
اس سلسلے میں این سی سی آئی اے نے اپنی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروادی گئی، جسٹس علی ضیاء باجوہ کچھ دیر بعد درخواست پر سماعت کریں گے۔
واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15جنوری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ہم اس معاملہ کی تہہ تک جائینگے، ججز کی خلاف مہم چلانے والوں کی لسٹیں تیار کریں، آئندہ کوئی ایسی پوسٹ نظر آئی تو ذمہ داری ڈی جی ہونگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ سوشل میڈیا ججز کی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔