نائب وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، تیل و گیس کی قیمتوں کے ڈھانچے کا جائزہ لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسلام آباد میں 300 طلبہ پر مشتمل سینٹر آف ایکسی لینس فار آٹزم کے قیام کے حوالے سے ایڈوائزری بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا جس میں خصوصی طرز تعمیر، سٹافنگ، انسانی وسائل کے فریم ورک اور سروس ڈیزائن کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ نائب وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی نے وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق ایک سال کے اندر سینٹر کی تکمیل کے لیے ٹائم لائنز کا جائزہ لیا۔ آٹزم کی دیکھ بھال میں عملی تجربہ رکھنے والے تربیت یافتہ ماہرین اور پیشہ ور افراد کی تعیناتی پر خصوصی زور دیا گیا۔ نائب وزیر اعظم نے ایک جامع اور قومی سطح کے طریقہ کار کی توثیق کی جس میں بچوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی پس منظر کی جانچ، منظم تعلیمی ٹولز اور ابتدائی تشخیص و مداخلت کے لیے شواہد پر مبنی طریقہ کار شامل ہو۔ دوسری طرف نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بدھ کو یہاں بین الوزارتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں تیل و گیس کے شعبے کے موجودہ قیمتوں کے ڈھانچے کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیر اعظم کے آفس سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی نے قابل اطلاق پٹرولیم پالیسی کے تحت قیمتوں کے تعین کے فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا۔ اراکین نے موجودہ طریقہ کار کا جائزہ لیا اور ایسے اصلاحی آپشنز پر غور کیا جن کا مقصد توانائی کو زیادہ سستا، پائیدار اور شعبہ کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کا جائزہ لیا
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا