علاج کی سہولت نہ ہونا موت کا پروانہ نہیں ہونا چاہیے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے نزدیک صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور علاج کی سہولت نہ ہونا کسی کے لیے موت کا پروانہ نہیں بننا چاہیے۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی کامیابیوں، جدوجہد اور مستقبل کے اہداف پر نظر ڈالنا چاہتی ہے، جن میں صحت کا شعبہ سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے تین ادوارِ حکومت میں صحت کے شعبے میں نمایاں سرمایہ کاری کی گئی اور صحت کے بجٹ کو 2.
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صوبے بھر میں مفت طبی سہولتیں اور جدید ہیلتھ انفراسٹرکچر قائم کیا گیا، جو نہ صرف مقامی شہریوں بلکہ بین الاقوامی معیار پر بھی پورا اترتا ہے۔ انہوں نے کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی کا سب سے بڑا اسپتال ہے، جو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق سے صوبے کو منتقل ہوا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ماضی میں صحت کے شعبے کو طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا، جس کے باعث ترقی اور سرمایہ کاری کا فقدان رہا، تاہم پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آ کر اس شعبے کو ترجیح دی اور عوام کو بہتر علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔