امریکا کی جانب سے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کی معطلی، پاکستان کو جلد بحالی کی امید
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا جلد ہی امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ بحال کر دے گا، جبکہ حالیہ معطلی کو واشنگٹن کی جانب سے امیگریشن پالیسی کے داخلی جائزے کا حصہ قرار دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ معطل کرنے سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں۔ ان کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر بیان کے ذریعے بتایا ہے کہ امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کے نظام کا اندرونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
واضح رہے کہ امریکا نے بدھ کو پاکستان سمیت 74 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ 21 جنوری سے معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ اقدام ان خدشات کے باعث کیا گیا ہے کہ بعض ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن سرکاری فلاحی پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ نئے مہاجرین امریکی عوام کے وسائل پر بوجھ نہیں بنیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہے تاکہ مزید تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ارتقائی عمل ہے جس پر نظر رکھی جا رہی ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ امیگرنٹ ویزا کی معمول کی پراسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی۔
امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کی معطلی کے باعث ہر سال امریکا جانے کے خواہش مند ہزاروں پاکستانیوں کے سفر، تعلیم اور ملازمت کے منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ توقع ہے کہ امریکا میں پاکستانی قونصل خانے آئندہ دنوں میں متاثرہ درخواست گزاروں کو رہنمائی فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا ویزا بانڈ پالیسی کا دائرہ مزید وسیع، وینزویلا سمیت 25 نئے ممالک فہرست میں شامل
یہ اقدام امریکا کے پبلک چارج رول سے منسلک بتایا جا رہا ہے، جس کے تحت یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا کوئی تارکِ وطن حکومتی امداد پر انحصار کرے گا یا نہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ویزا سروسز معطل کی جاتی رہی ہیں، تاہم حکام کے مطابق اس بار اس اقدام کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ویزا سروسز کی بحالی کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی، تاہم کہا ہے کہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ممالک کو آگاہ کر دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔