یمن میں امن کے خلاف یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں، عاصم افتخار
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
نیویارک:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ یمن میں امن کے خلاف یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ
جناب صدر،
ہم خصوصی ایلچی جناب ہانس گرنڈبرگ اور اوچا کے ڈائریکٹر جناب رامیش راجاسنگھم کو ان کی جامع بریفنگز پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔
2۔ پاکستان یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازع پر گہری تشویش رکھتا ہے، بالخصوص حالیہ پیش رفت اور تشدد کے دوبارہ ابھرنے پر۔ مسلسل سفارتی کوششوں اور علاقائی کاوشوں کے باوجود، یہ صورتحال اب تک حاصل ہونے والی نازک کامیابیوں کو زائل کرنے اور ملک کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیلنے کا خطرہ رکھتی ہے۔ اس نازک مرحلے پر، پاکستان کے نزدیک ضبط و تحمل، مکالمے کی تجدید اور کشیدگی میں کمی کے لیے پختہ عزم ناگزیر ہے، تاکہ یمن کو امن اور مفاہمت کی جانب ایک قابلِ اعتماد راستے پر واپس لایا جا سکے۔
3۔ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے، جو ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایک ناگزیر بنیاد ہیں۔ پاکستان یمن کے کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے جو تقسیم کو گہرا کریں، کشیدگی میں اضافہ کریں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں، جس کے منفی اثرات یمنی عوام، یمن اور پورے خطے پر مرتب ہوں۔
4۔ پاکستان ایک ایسے سیاسی عمل کے لیے اپنی حمایت دہراتا ہے جو یمنی ملکیت اور یمنی قیادت میں ہو، اور جو یمن کے اداروں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سیاسی فریم ورک کے مکمل احترام پر مبنی ہو۔ ہم خصوصی ایلچی کی جانب سے ایک جامع، شمولیتی اور ملک گیر عمل کی اپیل کی حمایت کرتے ہیں۔
5۔ ہم تمام یمنی فریقین اور علاقائی شراکت داروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ایک جامع اور دیرپا سیاسی تصفیے کے لیے تعمیری انداز میں کردار ادا کریں، جو تمام یمنی عوام کی امنگوں کی عکاسی کرے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنائے۔
6۔ پاکستان مکالمے اور مفاہمت کے لیے سازگار ماحول کے فروغ کے مقصد سے کی جانے والی علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اس ضمن میں، ہم پریزیڈنشل لیڈرشپ کونسل (PLC) کی جانب سے سعودی عرب کی سہولت کاری میں ریاض میں جامع مذاکرات منعقد کرنے کی اپیل کا خیرمقدم کرتے ہیں، اور تمام یمنی فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے تعمیری اور نیک نیتی کے ساتھ شرکت کریں۔
جناب صدر،
7۔ پاکستان اقوامِ متحدہ اور خصوصی ایلچی کے فعال کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور خطے میں ان کی حالیہ مصروفیات کو سراہتا ہے، جن میں ریاض، قاہرہ اور مسقط میں ہونے والی ملاقاتیں شامل ہیں۔ ہم ان کے اس جائزے کی تائید کرتے ہیں کہ “یمن کے تنازع کے پائیدار تصفیے اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ایک جامع اور شمولیتی سیاسی حل ہی واحد راستہ ہے۔”
8۔ پاکستان حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اقوامِ متحدہ اور انسانی ہمدردی کے عملے، سفارتی عملے کی مسلسل من مانی حراست اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر اور اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی ہمدردی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی کی عکاسی کرتے ہیں، انسانی امدادی سرگرمیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ضرورت مند لاکھوں یمنی عوام تک جان بچانے والی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ہم تمام زیرِ حراست افراد کی فوری اور بلا شرط رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اقوامِ متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کے استحقاقات اور تحفظات کے مکمل احترام پر زور دیتے ہیں۔
9۔ جیسا کہ آج ہمیں دوبارہ بریفنگ دی گئی ہے، یمن میں انسانی ہمدردی کی صورتحال بدستور نہایت تشویشناک ہے۔ لاکھوں افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ بنیادی خدمات مسلسل زوال پذیر ہیں، جبکہ غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کی صورتحال سنگین سطح پر برقرار ہے۔ اس تناظر میں، متاثرہ آبادی کی فوری اور شدید ضروریات سے نمٹنے کے لیے تیز رفتار، مستقل اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی کے ساتھ ساتھ قابلِ پیش گوئی اور مناسب مالی وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔ جان بچانے والی امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے بڑھتے ہوئے مالی خلا کو فوری طور پر پُر کیا جانا چاہیے۔
جناب صدر،
10۔ سلامتی کونسل کو یمن میں امن اور استحکام کی جانب ایک قابلِ اعتماد راستے کی حمایت کے لیے اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے۔ پاکستان اس مقصد کے لیے مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے اور دیگر علاقائی ممالک، بشمول عمان اور متحدہ عرب امارات، کی کاوشوں کو بھی سراہتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کوششیں پائیدار امن کے قیام اور یمنی عوام کی تکالیف کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات پر منتج ہوں گی۔ پاکستان سلامتی کونسل کے تمام اراکین کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کرتا رہے گا اور ان مشکل حالات میں حکومت یمن اور یمنی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔
میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی جانب سے یمنی عوام کرتے ہیں کرتا ہے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ