محمد رضوان کو سست بیٹنگ پر واپس بلانے پر کپتان اور کوچ نے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں پاکستانی وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو متنازع انداز میں ریٹائرڈ آؤٹ کیے جانے کے معاملے پر میلبرن رینیگیڈز کی ٹیم مینجمنٹ نے بالآخر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے رضوان سے باقاعدہ معذرت کر لی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے میلبرن رینیگیڈز کے کپتان وِل سدرلینڈ اور کوچ نے محمد رضوان سے رابطہ کیا اور اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق میلبرن رینیگیڈز کے کپتان وِل سدرلینڈ نے محمد رضوان سے گفتگو کے دوران اعتراف کیا کہ میچ انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا تھا اور دباؤ کے عالم میں ایسا فیصلہ کیا گیا۔
کپتان نے اپنے رویے پر شرمندگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ رضوان ایک اعلیٰ درجے کے کھلاڑی ہیں، شائقین کرکٹ انہیں پسند کرتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل بگ بیش لیگ کے ایک میچ میں محمد رضوان کو اس وقت ریٹائرڈ آؤٹ کیا گیا تھا جب وہ 23 گیندوں پر 26 رنز بنا چکے تھے۔ ٹیم مینجمنٹ نے ان کا اسٹرائیک ریٹ کم قرار دیتے ہوئے انہیں میدان سے باہر بلالیا، جس پر نہ صرف کرکٹ حلقوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا اور فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ رضوان کی جگہ بیٹنگ کے لیے آنے والے کپتان وِل سدرلینڈ خود محض ایک رن بنا کر آؤٹ ہو گئے، جس کے بعد ٹیم مینجمنٹ کے فیصلے پر سوالات مزید بڑھ گئے۔ اس واقعے کے بعد شائقین کرکٹ نے رضوان کے حق میں آواز بلند کی اور اسے بگ بیش لیگ کی تاریخ کے متنازع فیصلوں میں سے ایک قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد رضوان
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔