لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے تحریک انصاف کے حالیہ بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی اڈیالہ جیل، زمان پارک یا پاکپتن کا پیر خانہ نہیں جہاں ہر ہفتے اہلِ خانہ اور چند کرائے کے لوگوں کے ساتھ تماشا کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کا کوئی ذمہ دار عہدے دار تک موجود نہیں ہوتا، جبکہ خواتین کو دانستہ طور پر ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ عظمٰی بخاری نے واضح کیا کہ پنجاب پولیس ہمیشہ صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے، تاہم جب قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پولیس قانون کے مطابق کارروائی کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ اپنے ہر گناہ کا الزام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر ڈالنے کی روایت بند کی جائے۔ اگر کسی کے لیڈر کی خاطر عوام باہر نہیں نکلتے تو اس کا ملبہ مریم نواز پر کیوں ڈالا جاتا ہے۔ جو خود کو کبھی مقبول ترین سمجھتا تھا، آج وہ عوام میں اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ آئین اور قانون کا درس وہ لوگ دے رہے ہیں جو ماضی میں خود مطلق العنان رویوں کے علمبردار رہے۔ عظمٰی بخاری نے کہا کہ آئین کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نام پر سیاسی کارڈ کھیلنا بند کیا جائے۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے پنجاب حکومت صوبے کے تمام اداروں میں جدید، ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات متعارف کروا رہی ہے تاکہ عوام کو تیز، شفاف اور موثر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ موجودہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب میں گورننس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پنجاب تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں باقی صوبوں سے واضح طور پر آگے جا رہا ہے، جو مریم نواز کے مو ثر طرزِ حکمرانی اور مضبوط انتظامی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ آج دیگر صوبے بھی پنجاب کے ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے مخالفین کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی شعبدہ بازی اور منفی سیاست کے بجائے ترقی اور خوشحالی میں پنجاب کا مقابلہ کریں، کیونکہ انتشار اور منفی سیاست کا عوامی فلاح اور ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا