وزیر اعظم نے آسان خدمت سینٹر کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں آسان خدمت سینٹر کا افتتاح کر دیا۔
وزیراعظم نے آذربائیجان کے اشتراک سے قائم پاکستان آسان خدمت سینٹر میں سہولیات کا جائزہ لیا۔نادرا، پولیس، سی ڈی اے، ڈپٹی کمشنر آفس ایف بی آر، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور سوئی ناردرن سمیت ساٹھ سے زائد عوامی خدمات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوں گے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آسان خدمت مرکز سے عوام کو بے پناہ آسانیاں میسر آئیں گی، پاکستان آسان خدمت مرکز کے لیے ماسٹر ٹرینرز نے آذربائیجان سے تربیت حاصل کی ہے۔ ماسٹر ٹرینرز خدمات فراہمی میں عوام کو بھرپور سہولت فراہم کریں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی آسان خدمت مرکز قائم کریں گے۔
جنوری کے آخر تک شدید سرد موسم کی پیشگوئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔