ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن کی عدم ادائیگی سے متعلق ڈی جی کے ڈی اے و دیگر کیخلاف کارروائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن کی عدم ادائیگی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر چیف سیکریٹری سندھ کو ڈی جی کے ڈی اے و دیگر کیخلاف انضباطی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیدیا۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کے ڈی اے ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن کی عدم ادائیگی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ کے ڈی اے کی جانب سے عبوری عملدرآمد رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ کے ڈی اے کو مالی بحران کا سامنا ہے۔ عدالتی احکامات پر کے ڈی اے ایک ہزار 4 سو سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کو واجبات ادا کرچکا ہے۔
فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 13 جنوری کو ایک لیٹر موصول ہوا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے بجٹ میں اضافے کے لیئے اقدامات کیئے جارہے ہیں۔
کے ڈی اے کی جائیدادوں کی فروخت سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جارہی ہے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات ادا ہوں۔ لہذا ان حالات میں عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ ان حالات میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔
درخواستگزار کو ہفتہ وار 10 فیصد واجبات ادا کرسکتے ہیں۔ عدالت نے کے ڈی اے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔
عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو ڈی جی کے ڈی اے و دیگر کیخلاف انضباطی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیدیا۔
عدالت نے ہدایت کی عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں فریقین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ عدالت نے توہین عدالت کے مرتکب افسران کو طلب کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریٹائرڈ ملازمین کو عدالتی احکامات پر عدالت نے کے ڈی اے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔