سندھ: لسانی ثقافت نمایاں کرنے کا جنون
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں دو بڑی لسانی اکائیوں کے درمیان اپنی اپنی ثقافت کو نمایاں کرنے کا جنون کچھ برسوں سے سوار ہے۔ ایک نے ماہ دسمبر کے پہلے ہفتے کو اپنی ثقافت کے حوالے سے علامتی پروگرام پوری دنیا میں خوب دھوم دھام، رقص و سرود کی محافل تہوار کے روپ میں منعقد کیے اور اجرک، ٹوپی اور پگڑی کا اہتمام کرکے بچوں بوڑھوں اور جوانوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا تو دوسری بڑی لسانی اکائی نے دسمبر کے آخری ہفتے کو اپنی ثقافت کے طور پر پوری دنیا میں منانے کا اہتمام کیا۔ کراچی جو صوبائی دارالحکومت ہے کو دونوں لسانی اکائیوں نے بھر پور قوت کے اظہار کا مرکز بنا کر جلسے جلوس منعقد کیے۔ سال کے آخری ماہ دسمبر میں دوطرفہ ثقافت کو جو رخصت ہوتی جارہی ہے اس کو خوشی کے ساتھ نئی زندگی دینے کا اہتمام کیا گیا یا یہ ایک روز منا کررخصتی دی گئی اور ننگے سر ہوگئے۔ سندھ کی ثقافت قدیم ہے اور اس پر اسلام کا رنگ غالب ہے، اس کی ٹوپی میں محراب ہے اس کا بچھونا (بستر) رلی جو کپڑے کی ٹکڑیوں سے جوڑ کر بنائی جاتی ہے یکجہتی کی علامت ہے۔ اس دھرتی پر اسلام کی ثقافت کے گہرے اثرات رہے ہیں اور برقرار بھی ہیں۔ اس دھرتی کے انصار نے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا کردار اپنا کر مسلم امہ جسد واحد اور شریک سکھ دکھ ہیں کی مثال تازہ کی جس سے لٹے پٹے ہجرت کرکے آنے والوں کے زخم بھی جلد مندمل ہوگئے اور مل جل کر دل سے ترقی کا سفر شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے صوبہ سندھ کی ترقی بے مثال ہوگئی۔
سندھ ہمیشہ سے بھارت کے ہندوتوا نظریے کی نفرت کا مرکز رہا ہے کیوں کہ یہ باب اسلام ہے اور ہندوستان کو فتح کرنے اور اس کے نظریہ کو سرنگوں کرنے کی بنیاد رہا ہے۔ بھارت کے ہندو توا کے ایک مرکزی لیڈر نے تو وصیت کررکھی ہے کہ اس کی لاش کی راکھ محفوظ رکھی جائے اور جب سندھ فتح کرلو تو اس راکھ کو دریائے سندھ میں بہا دینا، وہ راکھ اب تک بھارت سرکار اور اس کے پیروکار سنبھالے چلے آرہے ہیں۔ سو سندھ کو فتح کرنے کے سپنے کو عملی شکل دینے کے لیے بھارت دونوں لسانی اکائیوں کو کمزور کرنے کے پروگرام پر دونوں طبقوں میں سرمایہ لگا کر آپس میں لڑانے میں مصروف ہے اور اس کی آلہ کار قیادتوں کے لاڈ پیار کسی سے ڈھکے چھپے بھی نہیں ہیں۔ سندھ میں بالخصوص لسانی زہر ایک منصوبہ کے تحت نصف صدی قبل انڈیلا گیا جس نے انسانی جان ومال کی بھینٹ لی، ایک ہی کلمہ گو لپیٹ میں آئے۔ سندھ کی ترقی کو گھن لگ گیا؛ سرمایہ کاری جو امن آشتی کی فضا میں پرورش پاتی ہے صوبہ سندھ میں وینٹی لیٹر پر چلی گئی۔ بڑی مشکل سے سانسیں بحال ہوئی تو ایک عشرہ سال سے پھر ثقافت کو نمایاں کرنے کا لسانی جنون کچھ شدت اختیار کرنے لگا ہے جو کچھ کی سیاسی ضرورت کے لیے بھی ابھارہ جارہا ہے اور عوام کے ثقافت سے جذباتی لگائو کو کیش کرکے ٹھٹھرتی سیاست کو زندہ رکھنے کا ایام جاہلیت والا ہتھکنڈا استعمال میں لایا جارہا ہے جو خدانخواستہ اگر بھڑک اٹھا تو بہت کچھ خاکستر کردے گا۔
یہ منافقوں کا پرانا ہتھکنڈا رہا ہے رسول اللہؐ کے دور میں بھی اس قسم کا واقعہ سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے کہ مہاجر اور انصار کے ایک تنازع میں دونوں نے اپنے اپنے گروہ کو نام لے کر مدد کے لیے پکارا آپؐ کو خبر ہوئی تو آپؐ سخت ناراض ہوئے۔ اس پکار کو جاہلیت قرار دے کر سختی سے منع کیا اور فریقین میں صلح کرادی اور یوں منافقین کی لسانی جنگ کرانے کی سازش ناکام ہوگئی۔ کس نے کس کی ثقافت سے منع کیا اور کسی نے ایام جاہلیت والی بات کہی تو اس کی سرکوبی کی جاتی کہ چے جائیکہ مسلم کلمہ گو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر توانائی صرف کرکے دشمن اسلام کے منصوبے کو پروان چڑھائیں یہ کش مکش سندھ دشمنی ہے خدا را عقل سلیم سے کام لیں۔
سندھ کی تہذیب کے حوالے سے اس کی بستی منصورہ جو سندھ کا قدیم شہر ہے تاریخ دان مورخ ابن حوقل مقدس دورہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ بازار میں ہار سنگھار سے آراستہ کوئی عورت دیکھنے کو نہیں ملتی تھی اور نہ ہی کوئی مرد ان سے ہنس کر بات کر سکتا تھا۔ (ابن حوقل ص 232، احسن التقاسیم ص 800) اسلام تو ہر قسم کے تعصب کی مذمت کرتا اور اس کے کچھ اصول لباس سے لے کر بود باش تک ہیں جو انسانی آسائش اور راحت کا اہتمام کرتے ہیں، لباس کو تو راحت جسم سے جوڑا اور ثقافت کو بے ہودگی سے پاک اور شفاف رکھا۔ رنگ وروپ کا ڈھونگ تو پھوٹ کی علامت ہے، اسلام تو جسد واحد کی بات کرتا ہے وہ کردار پر زور دیتا ہے۔ محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رنگ وروپ کا تعصب تو ہندو انتہا پسند بجرنگ دل کا نظریہ ہے اور بھارت اس کا بدترین مرکز ہے۔ حال ہی میں کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو ان انتہا پسندوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ہراسان کیا اور معترض ہوئے، سانتا کلاز کی ٹوپیاں پہنے خواتین بچوں کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا اور غیر ہندو ثقافت قرار دے کر گھروں تک محدود رہنے کی دھمکی دی۔
رسول اللہؐ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر یہ دعائیہ کلمات زبان اقدس پر تھے ’’اے اللہ! زندگی ہے تو بس آخرت کی زندگی ہے پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے اور غزوہ خندق کے موقع پر کھدائی کے وقت یہ دعائیہ کلمات مبارک زبان پر تھے ’’اے اللہ اجر تو بس آخرت کا ہے پس انصار اور مہاجرین پر رحم فرما‘‘، آمین ثم آمین
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا اہتمام ثقافت کو سندھ کی اور اس ہے اور
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔