Express News:
2026-07-24@06:56:36 GMT

حکومت پاکستان کی مؤثر کاوشوں کی بدولت اہم معاشی پیش رفت

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

حکومت اور ایس آئی ایف سی کی جامع پالیسیوں سے پاکستان کے معاشی استحکام کی کوششیں رنگ لانے لگیں، تقریباً پانچ سال بعد مارکیٹ یِیلڈز سنگل ڈیجٹس تک آنے سے پالیسی ریٹ سے نیچے ٹریڈ کا آغاز ہوگیا۔

حکومت کی محتاط اور منظم قرض گیری حکمتِ عملی کے باعث حکومتی قرضوں کی لاگت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

مارکیٹ یِیلڈز میں مسلسل کمی سے نجی شعبے کیلئے قرض فراہمی کی گنجائش بڑھی اور مالیاتی دباؤ میں نمایاں نرمی آئی۔

وزارتِ خزانہ کی اپنی بہترین شرائط پر مضبوط قرض گیری سے فنڈنگ لاگت کم اور مارکیٹ استحکام میں اضافہ ہوا، 2021 کے بعد پہلی بار مارکیٹ یِیلڈز پالیسی ریٹ سے نیچے آئیں، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

یِیلڈ کَرو کے تمام حصوں میں کمی، ٹی بل کٹ آف ریٹس میں 29 سے 34 بیس پوائنٹس کمی ریکارڈ کی گئی۔

پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بی) کی منظور شدہ مدتوں میں کٹ آف ریٹس 59 سے 70 بیس پوائنٹس کم ہو گئے۔ مارکیٹ پر غیر ضروری دباؤ سے اجتناب جاری رکھتے ہوئے وزارتِ خزانہ نظم و ضبط کے ساتھ لاگت اور مدتوں کو بہتر بنا رہی ہے۔

پی آئی بی نیلامی میں 450 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں حکومت نے 488 ارب روپے حاصل کیے۔ پی آئی بی نیلامی میں 1,458 ارب روپے کی بھاری بولیاں موصول ہوئیں جو مارکیٹ کے اعتماد کا مظہر ہے۔ یِیلڈز میں نرمی رواں سال حکومتی قرضوں کی سروسنگ لاگت کو مزید منظم اور مؤثر بنانے میں مدد دے گی۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے فعال قرض مینجمنٹ کے تحت پاکستان کے رواں سال بھی قرض ادائیگی پر بچت کی پوزیشن میں ہونے کی خوشخبری سنا دی۔ یہ حکمتِ عملی لیکویڈیٹی محفوظ رکھ کر ایس ایم ایز، زراعت، ہاؤسنگ اور روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کو تقویت دے رہی ہے۔

معیشت میں اہم پیشرفت نجی شعبہ کی قیادت میں پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ی یلڈز

پڑھیں:

حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا

دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔

سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی

حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان

وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری