پاکستان کا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ’لیلا‘ متعارف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستان نے باضابطہ طور پر اپنا پہلا مصنوعی ذہانت اوتار ’لیلا‘ متعارف کروا دیا ہے، جو ملک میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ اور عوامی خدمات میں جدت کا اہم اقدام ہے۔
یہ اعلان ایک خصوصی تقریب میں کیا گیا جس میں وفاقی وزراء، پالیسی ساز، ٹیکنالوجی ماہرین اور صنعت کے رہنما موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی نے ’لیلا‘ کو ایک ’تاریخی اور قابل تقلید اقدام‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ پاکستان کے اے آئی شعبے کی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے شادی کے وعدے کیوں لکھوائے؟ عدالت نے شادی غیر قانونی قرار دے دی
وفاقی وزیر کے مطابق ’لیلا‘ محض ایک علامتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک عملی اقدام ہے۔ یہ اوتار شہریوں کو تعلیمی رہنمائی فراہم کرے گا، مختلف شہری خدمات کے بارے میں معلومات دے گا اور متعدد زبانوں میں صارفین کے ساتھ بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے ٹیکنالوجی کی رسائی عام شہریوں تک آسان ہوگی۔
تقریب میں حکومت کی وسیع تر اے آئی حکمت عملی بھی پیش کی گئی، جس کے مطابق 2030 تک 100,000 افراد کو اے آئی میں تربیت دی جائے گی، 1,000 اے آئی اسٹارٹ اپس کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی، 400 یونیورسٹی منصوبوں کی حمایت کی جائے گی اور مختلف صنعتوں کے لیے 50 شعبہ مخصوص اے آئی ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’لیلا‘ کا آغاز پاکستان کی تکنیکی ترقی اور معاشی فروغ میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے جبکہ عوامی خدمات کی فراہمی اور صنعتی ترقی میں بھی یہ اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ اقدام پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمت عملی کو واضح کرتا ہے اور حکومت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے کہ اے آئی کے ذریعے شہریوں کو بااختیار بنایا جائے اور مختلف شعبوں میں جدت کو فروغ دیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوتار لیلا اے آئی اے آئی اوتار پاکستان کا پہلا سرکاری اے آئی اوتار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔