صدر زرداری اور بحرینی وزیر داخلہ کی ملاقات،سیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
(اویس کیانی) صدر آصف علی زرداری اور بحرینی وزیر داخلہ کی ملاقات، سیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال،پاکستان اور بحرین کے درمیان انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
تفصیلات کے مطابق بحرینی وزیر داخلہ نے محسن نقوی کے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے صدر زرداری کے سامنے خصوصی ذکر کیا،صدر زرداری کا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے کردار کو سراہا۔ اس موقع پر صدر زرداری کا کہنا تھا کہ محسن نقوی میرے بیٹے بلاول کے بعد دوسرے بیٹے کی مانند ہیں۔
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی ؛ خلاف ورزی پر قید اور جرمانے ہوں گے ؛ محکمہ داخلہ پنجاب
ملاقات میں پاکستان اور بحرین کا منشیات اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا،دونوں ممالک نےمنظم جرائم کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر زور دیا۔
اس موقع پر پاکستان بحرین شراکت داری علاقائی سلامتی کے لیے اہم قرار دی گئی، سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اقرار الحسن کا ’عوام راج ‘تحریک کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: صدر آصف علی زرداری بحرینی وزیر داخلہ ملاقات سیکیورٹی تعاون تبادلہ خیال بحرینی وزیر داخلہ ملاقات سیکیورٹی تعاون وزیر داخلہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔