60 فیصد مظاہرین کی اموات سر پر ضرب سے ہوئیں: ایرانی وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
تہران (ویب ڈیسک) ایرانی وزیرِ دفاع عزیز نصیرزاد نے کہا ہے کہ حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات میں سے تقریباً 60 فیصد سر پر ضرب لگنے کے باعث ہوئیں، جبکہ بیشتر ہلاکتیں چاقو کے وار اور گلا گھونٹنے جیسے پُرتشدد طریقوں سے ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ مظاہروں کے دوران 150 سے زائد دکانیں تباہ کی گئیں تاہم کسی دکان کو لوٹا نہیں گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ احتجاج معاشی مسائل کے لیے نہیں بلکہ شرپسندی پھیلانے کے لیے منظم کیے گئے تھے۔ وزیرِ دفاع کے مطابق ملک دشمن عناصر نے مذہبی اور ثقافتی مقامات کو بھی نشانہ بنایا۔
عزیز نصیرزاد نے الزام عائد کیا کہ ایران میں بدامنی پھیلانے کے لیے بیرونی حمایت سے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی، اور اس بار امریکی اور اسرائیلی حکام نے اپنی بدنیتی کسی بھی طرح نہیں چھپائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔