افغان طالبان میں اندرونی اختلافات حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، امیرِ طالبان کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
افغان طالبان کے سپریم لیڈر مولوی ہبت اللہ اخوندزادہ نے خبردار کیا ہے کہ تحریک کے اندرونی اختلافات افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان غیر فعال ملک، دہشتگردی کسی ایک صوبے نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے، دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود
یہ انکشاف ایک لیک ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے سامنے آیا ہے جس نے طالبان قیادت کے اعلیٰ ترین حلقوں میں کشیدگی اور اختلافات کی افواہوں کو مزید تقویت دے دی ہے۔
بی بی سی کی ایک سال پر محیط تحقیق کے مطابق طالبان کو درپیش سب سے بڑا خطرہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے جو اس سوال کے گرد گھومتا ہے کہ افغانستان کو کس طرز پر چلایا جائے اور اصل طاقت کہاں مرکوز ہونی چاہیے۔
طالبان قیادت کے اندر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور عالمی برادری سے تعلقات پر گہرے اختلافات موجود ہیں۔
بی بی سی اردو کے مطابق جنوری 2025 میں قندھار کے ایک دینی مدرسے میں طالبان ارکان سے خطاب کے دوران مولوی ہبت اللہ اخوندزادہ نے کہا کہ یہ تقسیم اسلامی امارت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: افغان طالبان اور ٹی ٹی پی بھارت سے ملے ہیں، کے پی حکومت کے لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، خواجہ آصف کا انکشاف
یہ آڈیو سامنے آنے کے بعد طالبان کی اعلیٰ قیادت میں دراڑوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں جن کی طالبان مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔
قیادت کے 2 واضح دھڑے
بی بی سی افغان سروس کے مطابق 100 سے زائد انٹرویوز، طالبان کے موجودہ و سابق ارکان، مقامی ذرائع، تجزیہ کاروں اور سابق سفارتکاروں سے گفتگو کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبان قیادت میں دو متضاد دھڑے ابھر چکے ہیں۔
پہلا دھڑا قندھار میں موجود مولوی ہبت اللہ اخوندزادہ کا وفادار ہے جو سخت گیر اسلامی امارت کے حق میں ہے جہاں علما ہر شعبہ زندگی پر سخت کنٹرول رکھتے ہیں اور افغانستان کو بڑی حد تک بیرونی دنیا سے الگ رکھا جائے۔
دوسرا دھڑا کابل میں قائم ہے جس میں طاقتور وزرا، سینیئر عسکری کمانڈر اور بااثر مذہبی شخصیات شامل ہیں۔ یہ گروپ عالمی برادری سے روابط، معاشی استحکام اور لڑکیوں کی تعلیم سمیت نسبتاً عملی طرزِ حکمرانی کا حامی ہے۔ افغانستان میں اس وقت بچیوں کو پرائمری سے آگے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
ایک اندرونی ذریعے نے اس تقسیم کو قندھار ہاؤس بمقابلہ کابل گروپ قرار دیا۔
قندھار میں طاقت کا ارتکازمولوی ہبت اللہ اخوندزادہ کو سنہ 2016 میں طالبان کا امیر مقرر کیا گیا تھا جنہیں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔ ان کا کوئی عسکری پس منظر نہیں تھا اور وہ اپنے نائبین، سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب مجاہد (ملا عمر کے صاحبزادے) پر انحصار کرتے تھے۔
تاہم سنہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طاقت کا توازن بدل گیا۔ اخوندزادہ نے اپنے نائبین کو وزارتی عہدوں پر لگا کر اصل اختیارات قندھار میں مرکوز کر لیے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان کا نظام حکمرانی سخت مرکزیت، نظریاتی جبر اور اندرونی اختلافات کا شکار
طالبان کے بانی رکن اور امریکا سے مذاکرات کرنے والے عبدالغنی برادر کو وزیرِاعظم بنائے جانے کی توقع تھی مگر انہیں نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ اخوندزادہ خود قندھار میں مقیم رہے اور سخت گیر حامیوں کا ایک طاقتور حلقہ تشکیل دیا جس کے باعث کئی احکامات کابل حکومت کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست نافذ ہونے لگے۔
خواتین اور حکمرانی پر تنازعخواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیاں طالبان قیادت کے اندر شدید اختلافات کا باعث بن چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے دسمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ ان پالیسیوں سے طالبان کے اندر تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔
اخوندزادہ کے مذہبی نظریات وقت کے ساتھ مزید سخت ہو گئے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرنے والے 2 طالبان عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سنہ 2017 میں اپنے بیٹے کے خودکش حملے کی منظوری بھی دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجشیر میں مزاحمتی فورس کا حملہ، اہم کمانڈر سمیت 17 افغان طالبان ہلاک
ایک موجودہ طالبان عہدیدار کے مطابق اخوندزادہ اکثر فیصلوں کا جواز یہ کہہ کر دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔
انٹرنیٹ بندش پر کھلا تصادمیہ اختلافات گزشتہ ستمبر میں اس وقت کھل کر سامنے آئے جب اخوندزادہ نے پورے ملک میں انٹرنیٹ اور فون سروس بند کرنے کا حکم دیا۔ تین دن بعد بغیر کسی وضاحت کے سروس بحال کر دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کابل گروپ نے اس حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے سروس بحال کروا دی جسے ایک ذریعے نے بغاوت کے مترادف قرار دیا۔ کہا جاتا ہے کہ عبدالغنی برادر، سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب مجاہد نے وزیر اعظم ملا حسن اخوند پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ فیصلہ واپس لیں کیونکہ اس سے حکومتی امور اور تجارت متاثر ہو رہی تھی۔
کابل گروپ کی عملی سوچتجزیہ کاروں کے مطابق کابل گروپ میں شامل رہنما دنیا دیکھ چکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ افغانستان تنہائی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ انہیں معتدل نہیں بلکہ عملی سوچ رکھنے والا قرار دیا جاتا ہے اور عبدالغنی برادر کو ان کا غیر رسمی قائد سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا افغان طالبان رجیم کو انتباہ: کیا یہ پالیسی میں نیا موڑ ہے؟
سراج الدین حقانی جو کبھی امریکا کو سب سے مطلوب شدت پسندوں میں شامل تھے اور جن پر ایک کروڑ ڈالر انعام مقرر تھا طالبان کے اقتدار کے بعد کابل میں عوامی تقریبات میں نظر آئے۔ بعد ازاں ایف بی آئی نے خاموشی سے ان کے سر سے انعام بھی ہٹا لیا۔
طالبان کی تردیددوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اندرونی اختلافات کی خبروں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتحاد افغانستان کے لیے ناگزیر ہے اور اسلام تفرقے کی اجازت نہیں دیتا۔
مزید پڑھیے: دنیا بھر میں افغان طالبان کے خلاف ماحول بنتا جا رہا ہے
انہوں نے اختلاف رائے کو خاندانی نوعیت کا معاملہ قرار دیا تاہم دسمبر میں سراج الدین حقانی کے اس بیان نے بحث چھیڑ دی جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ عوام کے اعتماد کو نظرانداز کرنے والے رہنما اپنی ساکھ کھو سکتے ہیں۔ اسی دن اعلیٰ تعلیم کے وزیر ندا محمد ندیم، جو اخوندزادہ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، نے کہا تھا کہ حقیقی اسلامی نظام میں ایک ہی لیڈر ہوتا ہے جس کے احکامات سب پر لازم ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان طالبان افغان طالبان رجیم افغان طالبان کے سپریم لیڈر مولوی ہبت اللہ اخوندزادہ افغان طالبان میں اختلافات کابل گروپ مولوی ہبت اللہ اخوندزادہ کا انتباہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان افغان طالبان رجیم افغان طالبان میں اختلافات کابل گروپ مولوی ہبت اللہ اخوندزادہ اندرونی اختلافات سراج الدین حقانی افغان طالبان طالبان قیادت قندھار میں کابل گروپ طالبان کے قیادت کے قرار دیا کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔