اسلام آباد: بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوانے کی مہلت ختم ہو گئی ہے، شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نے دو ایم ٹیگ سینٹرز کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈی جی ایکسائز کے مطابق 26 نمبر چونگی اور 17 میل (پھگراں) ٹول پلازہ پر ایم ٹیگ کی سہولت چوبیس گھنٹے فراہم کی جائے گی تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے بتایا کہ کچنار پارک سیکٹر I-8 اور سیکٹر F-9 پارک میں قائم ایم ٹیگ فراہمی کاؤنٹرز رات 12 بجے تک کھلے رہیں گے، یہ فیصلہ شہریوں کو ایم ٹیگ کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ڈی سی اسلام آباد نے واضح کیا کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کل سے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ڈی جی سیف سٹی کے ہمراہ مختلف ناکہ جات کا دورہ بھی کیا، جہاں چیف ٹریفک آفیسر اور ایس ایس پی آپریشنز بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران ایم ٹیگ ریڈرز کا عملی جائزہ لیا گیا۔
عرفان میمن کے مطابق ایم ٹیگ ریڈرز کی مدد سے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کو ناکہ جات پر روکا جائے گا اور ابتدائی طور پر 12 ناکہ جات پر کارروائیاں کی جائیں گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے فوری طور پر اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوائیں۔
ڈی سی اسلام آباد نے مزید بتایا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے شہر بھر میں 16 مختلف مقامات پر ایم ٹیگ سے متعلق خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد پر ایم ٹیگ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔