جدید سیکیورٹی فیچرز کے حامل کرنسی نوٹوں کے اجراء پر اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن، حج پالیسی اور توانائی و معیشت سے متعلق بڑے فیصلے کرلیے گئے۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی اور ای سی سی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی۔
حکومت کی جدید سیکیورٹی فیچرز کے حامل نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاریوں کے سلسلے میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کی طرف سے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں کو جدید عصری تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا جارہا ہے۔اس مقصد کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر مزید غور و خوض کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں پرائیویٹ حج آپریٹرز کمپنیوں کی تھرڈ پارٹی کے ذریعے رجسٹریشن اور جانچ کے عمل پر بھی غور کیا گیا۔وفاقی کابینہ نے پرائیویٹ حج پالیسی 2027 سے 2030 کا مسودہ حج پالیسی کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کر دی۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 24 دسمبر 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق بھی کر دی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23 دسمبر 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی منظوری دے دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔