ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: انگلینڈ کے پاکستانی نژاد کرکٹرز بھی تاحال بھارتی ویزے سے محروم WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز

نئی دہلی (آئی پی ایس )بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کا انعقاد آئی سی سی سمیت تمام شریک ممالک کے لیے درد سر بن گیا ہے۔پاکستان ٹیم ہائبرڈ ماڈل معاہدے کے تحت پہلے ہی اپنے تمام میچز بھارت کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گی۔دوسری جانب بنگلادیشی ٹیم نے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بھارت جاکر کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔

ان حالات کے برعکس بھارت خود کئی ٹیموں کو پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو ویزا دینے میں تاخیری حربے استعامل کررہا ہے۔امریکا کے علی خان سمیت چار پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھارتی ویزا نہ دیے جانے کی تصدیق کے بعد اب انگلینڈ کے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو بھی ویزا نہ ملنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق عادل رشید اور ریحان احمد کو پاکستان سے تعلق ہونے کے باعث ابھی تک بھارتی ویزا جاری نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث دونوں کھلاڑیوں کا اس ہفتے کے آخر میں سری لنکا کے خلاف 6 وارم اپ میچز کی سیریز کے لیے انگلینڈ کے اسکواڈ کے ساتھ سفر کرنے کا امکان نہیں ہے۔

یاد رہے کہ دو سال قبل شعیب بشیر انگلینڈ کے دورہ بھارت کے ابتدائی ٹیسٹ میں شرکت نہیں کر سکے تھے جس کے بعد انہیں ویزا کا عمل مکمل کرنے کے لیے لندن واپس جانا پڑا تھا، جبکہ ثاقب محمود کو بھی ویزا سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ کی ڈیڈ لائن ختم، ڈی جی ایکسائز کا اہم فیصلہ اسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ کی ڈیڈ لائن ختم، ڈی جی ایکسائز کا اہم فیصلہ مقبوضہ کشمیر: بھارتی حکومت نے مسلم طلبا کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا امریکاجون جیسی غلطی نہ دہرائے، ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جاسکتا: ایرانی وزیر خارجہ آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا، عمران خان جلد رہا ہوں گے، سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کا دن، ہم نہیں چاہتے جمہوریت ڈی ریل ہو، ترجمان بانی پی ٹی آئی پی ٹی وی میں تمام اینکرز میرٹ پر تعینات ہوئے کوئی سفارش نہیں، وزیر اطلاعات TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ پاکستانی نژاد انگلینڈ کے

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟