ٹی20 ورلڈکپ: انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے عادل رشید اور ریحان احمد بھارتی ویزوں کے منتظر
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے عادل رشید اور ریحان احمد بھارتی ویزوں کے منتظر ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق عادل رشید اور ریحان احمد بھارتی آفیشلز کی جانب سے اجازت نامے کے منتظر ہیں، دونوں کرکٹرز رواں ہفتے کے آخر میں اسکواڈ کے دیگر اراکین کے ہمراہ سری لنکا روانہ نہیں ہوں گے۔
انگلینڈ نے پہلے مرحلے میں سری لنکا میں وائٹ بال سیریز کھیلنا ہے، وائٹ بال سیریز کا آغاز 22 جنوری سے ہو گا جس کے بعد انگلینڈ نے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز کھیلنے ہیں۔
انگلینڈ کا پہلا میچ 8 فروری کو نیپال کے خلاف ممبئی میں شیڈول ہے۔
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ویزوں کے لیے تمام کارروائی آئی سی سی کی جانب سے آنے والے باضابطہ دعوت نامے کے فوری بعد مکمل کی۔
عادل رشید اور ریحان احمد فرنچائز کرکٹ میں مصروف تھے، کرکٹرز نے ویزوں کے لیے بیرون ملک رہتے ہوئے درخواستیں دیں، عادل رشید آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کے لیے دبئی اور ریحان احمد بی بی ایل کے لیے آسٹریلیا میں موجود تھے۔
برطانوی میڈیا نے کہا کہ ریحان احمد کے ابھی آسٹریلیا میں رہنے کی توقع ہے جبکہ عادل رشید ویزے کی تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں، ای سی بی حکام آئی سی سی بھارتی بورڈ سمیت برطانوی اور بھارتی اتھارٹیز کے ساتھ رابطے میں ہیں، ای سی بی معاملے کو جلد حل کرانے کے لیے کوشاں ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی پاکستانی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے برطانوی کرکٹرز کو بھارتی ویزوں کے حصول میں مشکلات رہی ہے، شعیب بشیر کو 2024 میں ویزا تاخیر سے جاری ہوا، ثاقب محمود کو بھی ماضی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عادل رشید اور ریحان احمد ویزوں کے کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔