Al Qamar Online:
2026-07-24@04:34:04 GMT

ایمان مزاری اورہادی علی چٹھہ کوگرفتارکرنےکاحکم

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

ایمان مزاری اورہادی علی چٹھہ کوگرفتارکرنےکاحکم

اسلام آباد :عدالت نے متنازع ٹویٹس کیس میں انسانی حقوق کی سرگرم وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، دونوں کا جرح کا حق بھی ختم کر دیا گیا۔

 ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔

 ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ایمان مزاری گواہ شہروز پر خود جرح کرنا چاہتی ہیں، شہروز پر ایمان مزاری خود کچھ سوالات کرنا چاہتی ہیں، جس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ گواہ شہروز پر جرح مکمل کریں ورنہ جرح کا حق ختم کر دوں گا۔

اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری نعیم گجر عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پیر کی تاریخ دے دیں اس کے بعد کوئی التوا نہیں مانگا جائے گا۔

 ایمان مزاری کی طبیعت خراب ہے، وہ خود جرح کرنا چاہتی ہیں، تاہم پراسیکوشن نے التوا دینے کی مخالفت کی اور موقف اپنایا کہ عدالت گواہ سے حلف لے اور جرح شروع کرے۔

 دورانِ سماعت نعیم گجر اور پراسیکوٹر رانا عثمان کے درمیان کمرہ عدالت میں شدید تلخ کلامی ہوگئی، ایڈووکیٹ نعیم گجر نے کہا کہ تم لے کر دکھائو حلف، میں دیکھتا ہوں کیسے لیتے ہو، میں بار کا صدر ہوں تمہارے باپ کا نوکر نہیں، آنکھیں وہاں دکھانا جہاں سے تم ہو کر آئے ہو، تم لو حلف ٹانگیں توڑ کر بجھوائوں گا۔

بتایا جارہا ہے کہ عدالت میں بار صدر نعیم گجر اور پراسیکوٹر رانا عثمان کے درمیان تلخی بڑھنے پر جج افضل مجوکا اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے اور کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔

 وقفے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہ ہوئے، پراسیکوٹر رانا عثمان نے کہا کہ عدالت میں آفیسر آف دی کورٹ پر ہاتھ اٹھایا گیا، نعیم گجر بار کا صدر ہے یا غنڈہ ہے۔

 بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ کر دی اور ملزمان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا اور کیس کی سماعت ایک دن کے لیے تک ملتوی کردی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں کہا کہ

پڑھیں:

افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 

کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے  ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم