جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام پنجاب کے بلدیاتی قانون کے خلاف چار روزہ ریفرنڈم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام پنجاب کے بلدیاتی قانون کے خلاف چار روزہ ریفرنڈم کا آغاز WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )پنجاب حکو مت کی جانب سے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف صوبے کے تمام اضلاع میں چار روزہ عوامی ریفر نڈم کا آغاز ہو گیا ہے جس میں امختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور بڑی تعداد میں عوام الناس نے شر کت کی، جماعت اسلامی کے کارکنان پنجاب کے تمام اضلاع اور یونین کونسل کی سطح پر ریفرنڈم بوتھ، کیمپ اور کارکنان بیلٹ بکس لے کر بھی دوکانوں، مارکیٹوں، بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنز، مساجد، چوراہوں پر عوام بلد یاتی قانون کے حوالے بیلٹ پیپر پر رائے لے رہے ہیں۔
،جماعت اسلامی کی جانب سے منعقد کیے جا نے والے ریفر نڈم میں تمام اضلاع میں زبر دست جوش خروش پایا جا رہا ہے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ اور امیر جماعت اسلای پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے کچہری چوک گجرات میں جبکہ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب اقبال خان نے اٹک میں ریفر نڈم کے کیمپ کا افتتاح کیا اور مختلف شہروں اور اضلاع کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر گفتگو کر تے ہو ئے لیاقت بلوچ نے کہا پنجاب کا بلدیاتی قانون غیر جمہوری اور آئین سے متصادم ہے،پہلے سینٹ اور قومی اسمبلی میں انسانوں کی منڈی لگتی تھی اب غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے حکمران خاندان یہ منڈی نچلی سطح تک لے کر جانا چاہتے ہیں۔
،موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بیورو کریسی کے تابع بنا کر عوامی فیصلہ سازی کا حق چھین لیا ہے، جماعت اسلامی اس قانون کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھے گی اورحکومت کو اسے واپس لینے پرمجبورکردیں گے، اس قانون کے ذریعے انتظامی، مالیاتی اور فیصلہ کن اختیارات منتخب نمائندوں سے چھین کر افسر شاہی کو دے دیے گئے ہیں، جسکی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔ ڈاکٹر طارق سلیم اور اقبال خان نے کہا عوامی ریفرنڈم میں عوام سے رائے لی جائے گی کہ کیا وہ اِن مطالباب کے حق یا مخالفت میں ہیں کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیاد پر ہوں؛ یوسی چیئرمین، وائس چیئرمین براہِ راست ووٹ کے ذریعے منتخب ہوں، بااختیار بلدیاتی نظام میں مکمل مالی، سیاسی، انتظامی اختیارات دیئے جائیں، بااختیار بلدیاتی نظام میں ضلعی نوکر شاہی منتخب نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہوں، انھوں نے کہا ریفرنڈم میں صوبہ کے کروڑوں لوگوں سے پنجاب کے بلدیاتی قانون پر رائے لی جائے گی،
پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے، عوامی مسائل کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بلدیاتی اداروں کو مکمل مالی، انتظامی اور سیاسی خودمختاری نہیں دی جاتی، ہمارا مطالبہ ہے کہ بلدیاتی ایکٹ میں فوری ترمیم کی جائے، میئر اور چیئرمینوں کے براہِ راست انتخابات کو بحال رکھا جائے اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا مکمل اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہو، انھوں نے کہا بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دے کر صوبہ بھر میں بااختیار، شفاف اور فعال مقامی حکومتوں کا قیام یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور اختیارات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچ سکیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان، سعودیہ اور ترکیے نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا ہے، وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نواز شریف نے سٹیٹ لانج علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح کردیا جدہ: آفتاب کھوکھر کی تین دہائیوں پر محیط شاندار سفارتی خدمات کا باب خوشگوار سفر، محفوظ زندگی: ڈی پی او مری نے برفباری کے دوران دم گھٹنے کے خطرے سے بچنے کے لیے ‘لائف سیونگ’ الرٹ جاری... اسلام آباد گیس دھماکہ، وفاقی وزیر سردار یوسف کا متاثرین کے لئے امداد کا اعلان پاکستان-یو اے ای تعلقات: مصباح کھر کی سفیر سے ملاقات، سرمایہ کاری اور تجارت پر زور لاہور ہائیکورٹ کے 13 ایڈیشنل ججز کیلئے جوڈیشل کمیشن اجلاس شروع
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بلدیاتی قانون قانون کے خلاف جماعت اسلامی پنجاب کے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔