اقرار الحسن کا نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: معروف اینکر پرسن اقرار الحسن نے نئی سیاسی جماعت کے قیام اور اس کے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اپنی جماعت کا نام پاکستان عوام راج تحریک بتایا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقرار الحسن نے واضح اعلان کیا کہ وہ کبھی بھی کسی سیاسی پارٹی کا عہدہ، سرکاری منصب یا حکومتی پوزیشن حاصل نہیں کریں گے، وہ اللہ اور اس کے نبی ﷺ کو گواہ بنا کر یہ عہد کرتے ہیں کہ نہ پارٹی سطح پر اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی عہدہ قبول کریں گے۔
اقرار الحسن نے مزید کہا کہ وہ اپنی جماعت یا کسی دوسری سیاسی جماعت سے کسی قسم کا ذاتی فائدہ بھی حاصل نہیں کریں گے،پاکستان عوام راج تحریک کی سرگرمیوں کا جلد ملک بھر میں آغاز کیا جائے گا۔
اینکر سے سیاست میں قدم رکھنے والے اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ایک مکمل جمہوری پلیٹ فارم ہو گی، جس کی اصل مالک پاکستان کی عوام ہوں گی، دیگر جماعتوں کے برعکس یہ پارٹی کسی خاندان یا فرد کی جاگیر نہیں بلکہ عوامی نمائندگی پر مبنی تحریک ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقرار الحسن
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔