کراچی ٹرانسپورٹ: سنگین مسائل کی وجہ حکومتی نا اہلی، تباہ حال انفرا اسٹرکچر ہے، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں جماعت اسلامی کے امیر منعم ظفر خان کی زیر صدارت مقامی ہوٹل میں کراچی ٹرانسپورٹ، سلگتے مسائل و حل کے عنوان سے مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں مقررین نے شہر میں ٹرانسپورٹ کے سنگین مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔
مقررین نے کہا کہ کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل کی بنیادی وجوہات حکومتی اداروں کی نااہلی، پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، تباہ حال انفراسٹرکچر، تجاوزات اور شہریوں کو ریلیف نہ دینے میں حکومت کی لاپرواہی ہیں، چند سو بسوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے اور شہر کے لیے کم از کم 15 ہزار بسیں، ماس ٹرانزٹ پروگرام اور سرکلر ریلوے کی فوری ضرورت ہے۔
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، سینئر صحافی مظہر عباس، عبد الجبار خٹک، سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی عبدالروف فاروقی، ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ، ڈاکٹر اقبال آفریدی، ڈاکٹر ظفر فاطمی، ڈاکٹر توحید، آل واٹر ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی باچا خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض نائب امیر کراچی مسلم پرویز نے انجام دیے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ سندھ حکومت وہ کام 15 سال پہلے کر لیتی تو آج کراچی کے شہری مشکلات کا شکار نہ ہوتے۔ موجودہ بسیں اور بی آر ٹی سروس مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہیں جبکہ عوام کے حقوق اور مردم شماری میں کراچی کے حصے کو بھی نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نادرن بائی پاس پر ہیوی ٹریفک کے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے اور چنگ چی رکشے وہاں چل رہے ہیں، شہری قوانین پر عمل کریں لیکن حکومت کی طرف سے ریلیف بھی فراہم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔