این ڈی ایم اے کا شدید سردی کی لہر کا الرٹ، ٹرانسپورٹ نظام اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) نے ملک کے بالائی اور شمالی علاقوں کے لیے سردی کی شدید لہر کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور اور اسلام آباد میں برفباری کا امکان، عالمی اداروں کی حیران کن پیشگوئی
این ڈی ایم اے کی جانب سے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں شدید سردی کی لہر متوقع ہے، جس کے باعث بلند اور پہاڑی علاقوں میں درمیانی سے شدید برفباری کا امکان ہے۔
بیان کے مطابق رات اور علی الصبح کے اوقات میں موسم انتہائی سرد رہنے کا امکان ہے جبکہ دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے کم رہ سکتا ہے۔ برفباری کے باعث پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کی بندش، ٹرانسپورٹ نظام اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
برفانی تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملحقہ میدانی علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے جبکہ بعض مقامات پر پالا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ موسمی صورتحال کے باعث پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں، جو انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے اور مویشیوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے شدید سرد لہر کے خدشات کو مسترد کردیا
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شدید سردی اور برفباری بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ قریبی میدانی علاقوں میں پالا فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
’سفر ناگزیر ہو تو سنو چینز کے استعمال کو یقینی بنائیں‘
این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر برفباری اور بلند علاقوں کی جانب، اور اگر سفر ناگزیر ہو تو سنو چینز کے استعمال کو یقینی بنائیں۔
عوام کو گرم کپڑوں، حرارتی انتظامات اور محفوظ رہائش کا بندوبست کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے، خصوصاً کمزور اور حساس طبقوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت
اتھارٹی نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے، برف ہٹانے کے انتظامات، ہنگامی ردعمل اور بجلی و مواصلاتی نظام کی بروقت بحالی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سردی کی لہر برقرار، میدانی علاقوں میں شدید دھند جبکہ پہاڑوں میں یخ بستہ موسم
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مستند معلومات کے لیے ٹی وی، ریڈیو، تصدیق شدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے رجوع کریں۔
واضح رہے کہ پیر کے روز محکمہ موسمیات نے 16 سے 25 جنوری کے دوران انتہائی سرد لہر سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت موسم سرما کی معمول کی حد میں رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news این ڈی ایم اے بارش برفباری پاکستان سردی لہر موسم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این ڈی ایم اے پاکستان لہر ڈی ایم اے علاقوں میں ہدایت کی کا امکان سردی کی کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔