ٹرمپ نے ایران پر حملے کا منصوبہ منسوخ کر دیا، خبر ایجنسی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
دوسری جانب تہران میں سفارتی ذرائع نے آج جمعرات کو المیادین کو بتایا کہ ایک علاقائی دوست ملک نے ایران کو اطلاع دی ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف فوجی حملوں کی منصوبہ بندی منسوخ کر دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن کا یہ پیچھے ہٹنا ایرانی داخلی صورتحال کی سیکیورٹی اور عسکری تشخیص کے بعد آیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تین خلیجی ممالک نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روکنے پر قائل کر لیا ہے، اس امر کا انکشاف سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیدار نے خبر ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دوسری جانب تہران میں سفارتی ذرائع نے المیادین کو بتایا ہے کہ ایک علاقائی دوست ملک نے ایران کو اطلاع دی ہے کہ واشنگٹن نے ایران کیخلاف فوجی حملوں کی منصوبہ بندی منسوخ کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکی صدر ٹرپ کو ایران پر حملے سے روکنے پر قائل کر لیا ہے۔ تینوں ملکوں نے موقف اختیار کیا کہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں پورا خطہ شدید دھچکوں کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ خلیجی ملکوں کی اس اہم ٹرائیکا نے ایک طویل سفارتی کوشش کی اور صدر ٹرمپ کو قائل کر لیا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے بلکہ اسے موقع دیا جائے۔ ان ذرائع کے مطابق اگر ایران پر ایک بار پھر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو یہ پورے علاقے کے لیے سنگین خطرے اور خرابی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے اچھی اور مثبت سوچ کے ساتھ ایران کو ایک موقع دیا جائے۔ اس اعلیٰ سعودی عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔ نیز کہا ہے کہ ابھی بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب تہران میں سفارتی ذرائع نے آج جمعرات کو المیادین کو بتایا کہ ایک علاقائی دوست ملک نے ایران کو اطلاع دی ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف فوجی حملوں کی منصوبہ بندی منسوخ کر دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن کا یہ پیچھے ہٹنا ایرانی داخلی صورتحال کی سیکیورٹی اور عسکری تشخیص کے بعد آیا ہے، جس میں یہ واضح ہوا کہ ایران کے اندر حالات اور طاقت کا توازن نظام کے حق میں بدل چکا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس علاقائی ملک نے تہران کو آگاہ کیا کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایسی تشخیصی رپورٹس کی بنیاد پر ہوا جن میں وسیع فوجی حملے کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا گیا تھا۔ تاہم اس پیشرفت کے باؤجود ایران ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور مکمل تیاری کی حالت میں ہے، ساتھ ہی سفارت کاری کا راستہ بھی بند نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کیخلاف فوجی جارحیت کی دھمکیوں پر ایران نے بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سفارتی ذرائع نے ایران ایران کو کے مطابق ایران پر ملک نے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔