Islam Times:
2026-06-02@22:23:13 GMT

ٹرمپ نے ایران پر حملے کا منصوبہ منسوخ کر دیا، خبر ایجنسی

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

ٹرمپ نے ایران پر حملے کا منصوبہ منسوخ کر دیا، خبر ایجنسی

دوسری جانب تہران میں سفارتی ذرائع نے آج جمعرات کو المیادین کو بتایا کہ ایک علاقائی دوست ملک نے ایران کو اطلاع دی ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف فوجی حملوں کی منصوبہ بندی منسوخ کر دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن کا یہ پیچھے ہٹنا ایرانی داخلی صورتحال کی سیکیورٹی اور عسکری تشخیص کے بعد آیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تین خلیجی ممالک نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روکنے پر قائل کر لیا ہے، اس امر کا انکشاف سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیدار نے خبر ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دوسری جانب تہران میں سفارتی ذرائع نے المیادین کو بتایا ہے کہ ایک علاقائی دوست ملک نے ایران کو اطلاع دی ہے کہ واشنگٹن نے ایران کیخلاف فوجی حملوں کی منصوبہ بندی منسوخ کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکی صدر ٹرپ کو ایران پر حملے سے روکنے پر قائل کر لیا ہے۔ تینوں ملکوں نے موقف اختیار کیا کہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں پورا خطہ شدید دھچکوں کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ خلیجی ملکوں کی اس اہم ٹرائیکا نے ایک طویل سفارتی کوشش کی اور صدر ٹرمپ کو قائل کر لیا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے بلکہ اسے موقع دیا جائے۔ ان ذرائع کے مطابق اگر ایران پر ایک بار پھر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو یہ پورے علاقے کے لیے سنگین خطرے اور خرابی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے اچھی اور مثبت سوچ کے ساتھ ایران کو ایک موقع دیا جائے۔ اس اعلیٰ سعودی عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔ نیز کہا ہے کہ ابھی بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب تہران میں سفارتی ذرائع نے آج جمعرات کو المیادین کو بتایا کہ ایک علاقائی دوست ملک نے ایران کو اطلاع دی ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف فوجی حملوں کی منصوبہ بندی منسوخ کر دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن کا یہ پیچھے ہٹنا ایرانی داخلی صورتحال کی سیکیورٹی اور عسکری تشخیص کے بعد آیا ہے، جس میں یہ واضح ہوا کہ ایران کے اندر حالات اور طاقت کا توازن نظام کے حق میں بدل چکا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس علاقائی ملک نے تہران کو آگاہ کیا کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایسی تشخیصی رپورٹس کی بنیاد پر ہوا جن میں وسیع فوجی حملے کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا گیا تھا۔ تاہم اس پیشرفت کے باؤجود ایران ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور مکمل تیاری کی حالت میں ہے، ساتھ ہی سفارت کاری کا راستہ بھی بند نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کیخلاف فوجی جارحیت کی دھمکیوں پر ایران نے بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سفارتی ذرائع نے ایران ایران کو کے مطابق ایران پر ملک نے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟