جدہ: آفتاب کھوکھر کی تین دہائیوں پر محیط شاندار سفارتی خدمات کا باب WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز

جدہ /خالد نواز چیمہ/آفتاب کھوکھر: پاکستان کے ممتاز سفارتکار، تین دہائیوں پر محیط شاندار سفارتی خدمات کا درخشاں باب
پاکستان کے سینئر، کہنہ مشق اور باوقار سفارتکار آفتاب احمد کھوکھر کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان کی خارجہ پالیسی، سفارتی وقار اور اوورسیز پاکستانیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے گراں قدر اور مثالی خدمات انجام دیں۔


آفتاب کھوکھر نے سفیرِ پاکستان برائے آسٹریا اور سفیرِ پاکستان برائے لبنان کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔ ان مناصب پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کیا بلکہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا کیے۔ ان کے دورِ سفارت میں پاکستان کا مثبت، متوازن اور ذمہ دار تشخص عالمی برادری میں مؤثر انداز سے اجاگر ہوا۔


اس سے قبل وہ قونصل جنرل آف پاکستان، جدہ جیسے انتہائی اہم اور حساس عہدے پر بھی فائز رہے۔ جدہ میں بطور قونصل جنرل ان کا دور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک سنہری مثال کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کے فوری اور عملی حل، قونصلر خدمات میں شفافیت، سہولت اور جدیدیت کے فروغ کے لیے نمایاں اور دیرپا اقدامات کیے۔
حج و عمرہ سیزن کے دوران پاکستانی عازمین کے لیے مؤثر انتظامات، لیبر مسائل کے حل کے لیے سعودی حکام سے فعال رابطہ، اور کمیونٹی کے ساتھ براہِ راست اور کھلا رابطہ ان کی نمایاں پہچان رہا۔ انہوں نے قونصلیٹ آفس میں ایجنٹ مافیا، سفارش کلچر اور غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ کیا، جس سے عام پاکستانی کو براہِ راست افسران تک رسائی ممکن ہوئی۔


پاکستان انٹرنیشنل اسکولوں میں سیاسی مداخلت کے خاتمے اور تعلیمی ماحول کے استحکام کے لیے بھی ان کے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا قونصلیٹ آفس ہمہ وقت عوام کے لیے کھلا رہتا تھا، جہاں عام آدمی بلا خوف و جھجھک اپنی شکایات اور مسائل پیش کر سکتا تھا۔


آفتاب کھوکھر کی سفارتی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی بردباری، معاملہ فہمی، پیشہ ورانہ دیانت اور قومی مفاد پر غیر متزلزل یقین ہے۔ چاہے مشکل سیاسی حالات ہوں یا کمیونٹی سے متعلق حساس معاملات، انہوں نے ہمیشہ تدبر، حکمت اور وقار کے ساتھ پاکستان کے مؤقف کا دفاع کیا۔


اس وقت وہ جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے ہیڈکوارٹر میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جدہ میں مقیم پاکستانی آج بھی ان کی بطور قونصل جنرل شاندار کارکردگی کو قدر و احترام سے یاد کرتے ہیں۔
سفارتی حلقوں اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کے نزدیک آفتاب کھوکھر ایک ایسے سفارتکار کے طور پر جانے جاتے ہیں جنہوں نے محض ریاست کی نمائندگی ہی نہیں کی بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں پاکستان کی آواز بن کر خدمات انجام دیں۔ ان کی سفارتی خدمات نئی نسل کے سفارتکاروں کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کا نام پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ہمیشہ احترام سے لیا جاتا رہے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخوشگوار سفر، محفوظ زندگی: ڈی پی او مری نے برفباری کے دوران دم گھٹنے کے خطرے سے بچنے کے لیے ‘لائف سیونگ’ الرٹ جاری کر دیا خوشگوار سفر، محفوظ زندگی: ڈی پی او مری نے برفباری کے دوران دم گھٹنے کے خطرے سے بچنے کے لیے ‘لائف سیونگ’ الرٹ جاری.

.. اسلام آباد گیس دھماکہ، وفاقی وزیر سردار یوسف کا متاثرین کے لئے امداد کا اعلان پاکستان-یو اے ای تعلقات: مصباح کھر کی سفیر سے ملاقات، سرمایہ کاری اور تجارت پر زور لاہور ہائیکورٹ کے 13 ایڈیشنل ججز کیلئے جوڈیشل کمیشن اجلاس شروع ٹرمپ ایران پر مختصر مگر فیصلہ کن حملہ کرنا چاہتے ہیں: امریکی میڈیا کا انتباہ پاکستان نے یمن بحران کے حل کیلئے فوری اور متحدہ عالمی کوششیں ناگزیر قرار دیدیں TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سفارتی خدمات آفتاب کھوکھر تین دہائیوں

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار